ایرانی سپریم لیڈر کے بیان سے ہماری پالیسی تبدیل نہیں ہو گی، وائٹ ہاؤس

ہم نیوز  |  Feb 23, 2021

واشنگٹن: وائٹ ہاؤس نے واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ بات چیت کے نتائج سے قبل اس پر عائد پابندیاں نہیں اٹھائیں گے۔ امریکہ کے صدر جوبائیڈن بھی اس سے قبل واضح طور پرکہہ چکے ہیں کہ ایران کو مذاکرات کی میز تک لانے کے لیے عائد پابندیوں کا خاتمہ نہیں کریں گے۔

عالمی خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ بات وائٹ ہاؤس کی ترجمان جین ساکی نے میڈیا بریفنگ میں کہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے جوہری پروگرام سے متعلق متنازع بیان کے باوجود ہمارے مؤقف میں‌ کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی سپریم لیڈر کے یورینیم افزودگی کی مقدار بڑھانے سے متعلق بیان سے ہماری پالیسی میں تبدیلی نہیں آئے گی۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان جین ساکی نے کہا کہ ہم جوہری معاہدے پر اضافی اقدامات نہیں کریں گے اور دستخط کنندگان کے گروپ میں طے شدہ مذاکرات کا انتظار کریں گے۔

جین ساکی نے کہا کہ یورپی یونین کے بیان میں سفارتی مشاورت میں حصہ لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم ایرانیوں کی طرف سے دعوت نامے کا جواب دینے کا انتظار کریں گے۔

خبر رساں ایجنسی کے مطابق وائٹ ہاؤس کی ترجمان جین ساکی نے کہا کہ ایران کے بارے میں ہماری پالیسی داخلی اتفاق رائے کا موضوع ہونا چاہیئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے اگلے اقدامات پر کانگریس سے مشاورت کریں گے۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے گزشتہ روز یورینیم کی افزودگی 60 فیصد تک بڑھانے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران جوہری پروگرام کے حوالے سے امریکی دباؤ کسی صورت بھی قبول نہیں کرے گا۔

ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کہا تھا کہ ایران کی یورینیم افزودگی کو 20 فیصد تک محدود نہیں رکھا جائے گا بلکہ ہم اس کو اس سطح پر لے جائیں گے جہاں تک ہمیں اس کی ضرورت ہوگی۔

آیت اللہ خامنہ ای نے واضح کیا تھا کہ ہم اس کو 60 فیصد تک بھی لے جاسکتے ہیں اور ایسا کرنے سے کوئی ہمیں نہیں روک سکتا ہے۔

ایران اشتعال انگیزی سے گریز کرے، جنرل کینیتھ میکنزی

مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج کے سربراہ جنرل کینیتھ میکنزی نے گزشتہ روز اپنے دورہ عمان کے موقع پر کہا تھا کہ ایران کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی سے گریز کرے۔ انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ اس وقت تہران کے ساتھ نیوکلیئر معاہدے کو بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More