امریکی معیشت سنبھلنے لگی، نمایاں شرح افزائش متوقع

وائس آف امریکہ اردو  |  Feb 23, 2021

واشنگٹن — 

بظاہر کرونا بحران نے امریکی معیشت کو گزشتہ نصف صدی کے کٹھن ترین مسائل سے دو چار کر رکھا ہے۔ ملک میں پانچ لاکھ لوگ زندگی کی بازی ہار چکے ہیں، اور اس موذی مرض کے نئے کیسز کچھ کمی کے باوجود پریشان کن تعداد میں سامنے آ رہے ہیں۔ اور حالیہ دنوں میں اعلیٰ عہدیداروں نے اس بات کا بھی عندیہ دیا ہے کہ ملک میں بے روزگاری کی اصلی شرح دس فیصد تک ہو سکتی ہے۔

لیکن ساتھ ہی کرونا وائرس کے پھیلاؤ سے متعلقہ کچھ ایسے مثبت عوامل بیک وقت نمودار ہو رہے ہیں جن کی بدولت امریکی معیشت کی نمو گزشتہ چار عشروں کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

ان عوامل میں ویکسین کی دستیابی، امریکی صارفین کے اخراجات کا بڑھتا ہوا رجحان، صدر جو بائیڈن کی طرف سے 19 کھرب ڈالر کے کرونا ریلیف اور اسٹیمولس پیکچ، امریکیوں کی بچتوں اور کارخانوں میں پیداوار میں اضافہ شامل ہیں۔

ان سارے عوامل کے پیش نظر اقتصادیات کے تین بڑے اداروں بارکلیز، مورگن سٹینلے اور آکسفورڈ نے پیشن گوئی کی ہے کہ اس سال امریکی معیشت چھ اعشاریہ پانچ کی شرح سے آگے بڑھے گی۔ جب کہ گولڈمین سیکس نے کہا ہے کہ امریکی معیشت کی شرح نمو سات فیصد کی بلند سطح کو چھو لے گی۔

تاہم زیادہ تر ماہرین کا کہنا ہے کہ معیشت کی بحالی میں بائیڈن انتظامیہ کی طرف سے 19 کھرب ڈالر کے ریلیف پیکج کا کردار اہم ترین رہے گا، کیونکہ صارفین کی جیبوں میں خرچ کرنے کے لیے نئی رقوم آئیں گی۔ پہلے ہی گزشتہ ایک سال میں وفاق کی طرف سے دیے گئے 38 کھرب ڈالر نے معیشت کو بہت سہارا دیا ہے۔

اقتصادی ماہرین کے مطابق امریکہ میں ورک فورس یعنی کارکنان کی تعداد میں اضافے سے معیشت کی بحالی کے بعد، اس کی افزائش کو صحت مندانہ سطح پر برقرار رکھا جا سکتا ہے۔

اس سلسلے میں بے روزگار ہونے والی خواتین کی کام پر واپسی اور نئے تارکین وطن کا امریکہ میں آنا اور ملک کے انفراسٹرکچر یعنی سہولیات کے بنیادی ڈھانچوں کو جدید بنانا بہت اہم ثابت ہوں گے۔

کانگرس کے بجٹ دفتر کے تخمینے کے مطابق اگر امریکی معیشت ایک اعشاریہ آٹھ کے مقابلے میں دو اعشاریہ پانچ کی شرح نمو سے بڑھتی ہے تو ایک عشرے میں 111 ٹریلین ڈالر کی اقتصادی کاروائیاں عمل میں آئیں گی۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More