سری لنکا:کروناسےجاں بحق مسلمانوں کومیتیوں کی تدفین کی اجازت دیدی

سماء نیوز  |  Feb 26, 2021

فائل فوٹو

سری لنکن حکومت کی جانب سے کرونا وائرس سے جاں بحق مسلمانوں کو میتیوں کی تدفین کی اجازت دے دی گئی ہے۔ حکومت کی جانب سے نوٹی فکیشن کا اجرا کردیا گیا ہے۔

سری لنکن حکومت کی جانب سے جاری نوٹی فیکیشن کے مطابق مسلمان اب کرونا وائرس سے جاں بحق افراد کی میتیوں کو جلانے کے بجائے مذہبی طریقے سے دفنا سکیں گے۔

سری لنکن حکومت کی جانب سے نوٹی فیکیشن کا اجرا ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے، جب پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے سری لنکا کا دورہ کیا اور مسلمانوں کے اس دیرینہ مطالبے پر سری لنکن حکومت سے بات چیت کی۔

واضح رہے کہ سری لنکا میں مقیم مسلمانوں کی جانب سے لاشوں کو جلانے کے حکم پر شدید احتجاج کیا گیا تھا۔ گزشتہ سال سری لنکن حکومت نے کرونا وائرس کے باعث ہلاک افراد کی لاشوں کو دفنانے پر پابندی لگاتے ہوئے انہیں جلانے کا حکم دیا تھا۔

فائل فوٹو

سری لنکا کی حکومت نے شروعات میں اپریل میں بااثر بدھ راہبوں کے ان خدشات کے باعث تدفین پر پابندی عائد کردی تھی کہ کرونا سے جاں بحق ہونے والوں کی میتیں دفن کرنے سے زیر زمین پانی زہریلا ہوسکتا ہے اور وائرس پھیل سکتا ہے، تاہم ماہرین نے ان خدشات کو بے بنیاد قرار دیا تھا۔

سری لنکن حکومت کی جانب سے تدفین پر پابندی لگائے جانے کے بعد نہ صرف مسلمان بلکہ دیگر مذاہب کے افراد کی جانب سے شدید احتجاج دیکھنے میں آیا تھا۔ اقوام متحدہ کی جانب سے بھی اس پابندی پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔

دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے سری لنکن وزیراعظم مہیندا راجاپاکسا کی جانب سے کرونا کے باعث انتقال کرنے والے مسلمانوں کی میتوں کو تدفین کی اجازت دینے کا خیر مقدم کیا ہے۔

قبل ازیں دارالحکومت کولمبو میں حکومتی فیصلے کے خلاف درجنوں مسلمانوں نے علامتی جنازوں اور تابوت اٹھا کر مظاہرہ کیا تھا۔

گزشتہ سال دسمبر میں حکام نے بچے سمیت کرونا وائرس سے جاں بحق ہونے والے کم از کم 19 مسلمانوں کی میتیں جبراً جلانے کا حکم دیا تھا۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مقامی انتہا پسند تنظیم کی جانب سے 2019 میں ایسٹر کے تہوار کے موقع پر خوفناک دھماکوں کے بعد سے سری لنکا میں مسلمانوں اور اکثریتی سنہالیوں، جن میں سے بیشتر بدھ مت ہیں، کے درمیان کشیدگی پائی جاتی ہے۔

مسلم برادری کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ملک میں کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والے 450 افراد میں سے نصف سے زائد کا تعلق مسلم اقلیت سے تھا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More