عثمان بزدارگزشتہ 2سال تک کیا کچھ کرتے رہے؟ سب سامنے آگیا

روزنامہ اوصاف  |  Feb 26, 2021

لاہور(روزنامہ اوصاف)وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے اپنی حکومت کی پچھلے دو سالوں کی کارکردگی کے دوران کیے گئے کچھ محکموں کے چیدہ چیدہ کام گنوا دیئے جبکہ اگلے 3 سالوں میں مزید تندہی اور جانفشانی سے تحریک انصاف کے منشور اور وزیراعظم عمران خان کے وعدوں پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کےعزم کا اظہار کیا ہے ۔وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے جاری بیان میں انہوں نے کہاکہ پنجاب کی عوام نے 25 جولائی 2018 کو PTI اور وزیراعظم عمران خان کے منشور کو دیکھتے ہوئے ووٹ دیااورتحریک انصاف حکومت عوام کی امیدوں پر پورا اترے گی۔ انہوں نے بتایا کہ پچھلے 2سال میں مشکل ترین حالات کےباوجود ہم نے اپنےوعدوں پر عمل کرتےہوئے 9 ہسپتالوں اور 7 یونیورسٹیوں پر کام شروع کیا، 15 ہزار ہیلتھ کیئر پروفیشنلز کی بھرتی، پہلی بار 15 یونیورسٹیوں، 250 کالجز اور 8 تعلیمی بورڈز کے سربراہان کی میرٹ پر آزاد سلیکشن بورڈز کے ذریعے تقرری ہوئی، 3 نئی ٹیکنیکل یونیورسٹیوں کا آغاز ہوا، 50 کالجز میں BS کلاسز کا آغاز کیاگیا، 1200 سکولوں کو اپ گریڈ کر دیا گیا، سکولوں میں "آفٹرنون شفٹ" شروع کی گئی، نئی ایجوکیشن پالیسی لائی گئی، پہلی بار 40 ہزار اساتذہ کے گھر بیٹھے بغیر رشوت/سفارش کے ٹرانسفرز ہوئے، تمام اداروں میں آنلائن ہیومن ریسورس سسٹم لانے پر کام شروع ہوا، 2800 سے زائد کلاس رومز بنانے کا کام شروع، تقریباً 10 ہزار سکولوں کو سولر انرجی پر منتقل کر دیا گیا، 72 لاکھ خاندانوں کے لیے ہیلتھ انشورنس کارڈز کا اجراء. 50 لاکھ کارڈز تقسیم کیے، 40 تحصیل اور ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتالوں کی revamping جاری ہے، 194 بنیادی مراکز صحت اب 24 گھنٹے فنکشنل ہے۔وزیراعلیٰ نے بتایاکہ 16 ارب کے میگا پراجیکٹس جاری ہیں، میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوٹشنز (MTI) ریفارمز ایکٹ پاس ہو چکا ، پانی چوری روکنے سے 10-15 سال بعد کئی علاقوں میں نہروں کی ٹیل تک پورا پانی پہنچا، کئی دہائیوں بعد نہروں پر کام شروع ہوا (جلالپور کینال سسٹم اور تھل کینال سسٹم کے میگا پراجیکٹس) تمام بیراج اور "فلڈ پروٹیکشن بند" پہلےسے زیادہ مضبوط کیے، کھالےپکے کرنےکا کام شروع کیاگیا،10 سپیشل اکنامک زونز منظور کیے، غیر ملکی سرمایہ کاروں سے علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی اور قائداعظم بزنس پارک کے لیے اربوں ڈالر کے معاہدے،▪ ہنرمند پنجاب سکیم کے تحت TEVT سیکٹر کے لیے 1.5 ارب روپے دئیے گئے، کسانوں کو منڈیوں اور ماڈل بازاروں میں "کسان پلیٹ فارم" کی مفت فراہمی، اینٹی کرپشن کے ادارے نے 132 ارب روپے سے زائد کی تاریخی ریکوریاں کیں ، قبضہ مافیا سے 10 لاکھ کینال سےزائد رقبہ واگزار کروایا گیا، 10 ہزار سے زائد کرپشن انکوائریاں کی گئیں اور 2300 سےزائد گرفتاریاں کی گئیں، عوامی شکایات کےلیے #ReportCorruption ایپلیکیشن متعارف کروائی، کاروبار میں آسانی کے لیے E-Governance منصوبے شروع کیے گئے، ملکی تاریخ کا سب سے بہترین بلدیاتی سسٹم منظور کروایا گیا. حلقہ بندیاں جاری ہیں، لیگل ریفارمز کے لیے پنجاب اسمبلی سے ریکارڈ 30 سے ذائد بل پاس کیے گئے اور تقریباً اتنے ہی قوانین منظوری کے مختلف مراحل میں ہیں، گنے اور گندم کےکاشتکاروں کو تاریخ میں پہلی بار پورا ریٹ ملا، کسانوں کے 26 ارب کے بقایا جات شوگر ملز سے ریکور کروائے گئے۔انہوں نے کہاکہ ▪ وزیراعظم ایگریکلچر ایمرجنسی پروگرام کے تحت مختلف سکیموں کے لیے ان 5 سالوں میں تقریباً 65 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے، کھادوں پر تاریخی سبسڈی دی گئی، پولیس ریفارمز کے تحت پولیس سے متعلقہ 80٪ کاموں کے لیے 36 اضلاع میں خدمت مراکز کا قیام، 8787 پر آئی جی شکایت سیل کا قیام، 10 ہزار نئے پروفیشنلز کی بھرتی کی منظوری، 50/720 سمارٹ پولیس سٹیشنز کا افتتاح، میرٹ پرپروفیشنل افسران کی تقرری کی ۔انہوں نے بتایاکہ سخت ادارہ جاتی احتساب کا آغازکیا، 61 میں سے 24 ایسی تحصیلوں میں سپورٹس کمپلیکس شروع کیے گئے جہاں کھیلوں کی سہولیات نہ ہونے کےبرابر ہیں، 8 سال بعد پنجاب گیمز کا انعقادکیا،▪ کبڈی ورلڈکپ کی میزبانی کی، نشتر سپورٹس کمپلیکس میں "سپورٹس سکول" بنانےکی منظوری دی، 1400 دیہاتوں میں "گرین گراؤنڈز" بنانےکا منصوبہ شروع کیا، ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے "والڈ سٹی اتھارٹی" کا دائرہ کار صوبے بھر تک بڑھا دیاگیا، 10 نئے سیاحتی مقامات کی ڈویلپمنٹ جاری ہے اور صوبے میں 50 کروڑ پودے لگانے کا ٹارگٹ ہے، 4 نئے نیشنل پارکس کی منظوری دی ، "اربن فارسٹ" متعارف کروائے گئے، وائلڈ لائف تحفظ کےلیے قوانین میں ترامیم کی گئی ، لاہور سمیت تمام بڑے شہروں کے اگلے 30 سالہ ماسٹر پلان پر کام جاری ہےجبکہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ اتھارٹی" کا قیام جس کے تحت لاہور اور راولپنڈی رنگ روڈ پراجیکٹس کےساتھ 13 دیگر بڑی سڑکوں کےمنصوبوں پر مختلف مراحل میں کام جاری ہےاور تقریباً 1500 کلومیٹر دیہاتی/چھوٹی سڑکوں کی تعمیر کی، جنوبی پنجاب صوبے کےلیےسیکرٹریٹ کا قیام. بہاولپور اور ملتان میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور ایڈیشنل IGP کی تقرری اور جنوبی پنجاب کےفنڈز کی "Ring Fencing" جس سےپچھلےدور کی طرح فنڈز کہیں اور ٹرانسفر کرنا ناممکن ہے۔انہوں نے کہاکہ کورونا جیسی وبا کا باتوں کی بجائےبہتر ایڈمنسٹریشن سےمقابلہ کیا گیا۔
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More