جولائی تادسمبرٹویوٹا کو دوگنا منافع،کتنی گاڑیاں خریدی گئیں؟

سماء نیوز  |  Feb 26, 2021

پاکستان میں جولائی تا دسمبر 2020 کا بیشتر حصہ کرونا کی وبا اور لاک ڈاؤن میں گزرا اور تقریباً تمام ہی کاروبار ٹھپ پڑے ہوئے تھے لیکن ٹویوٹا کمپنی ان چند اداروں میں سے ایک تھی جو اس دوارن بھی منافع میں رہی کیوں کہ لوگوں نے گزشتہ کی نسبت 82 فیصد زیادہ گاڑیاں خریدیں۔

اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مالی سال 2020-21 کی پہلی ششماہی یعنی جولائی تا دسمبر 2020 کے دوران ٹویوٹا پاکستان کا منافع 108 فیصد بڑھا کیوں کہ پاکستانیوں نے اس دوران کمپنی کی 26 ہزار 362 گاڑیاں خریدیں جبکہ مالی سال 2019-20 کے اسی دورانیے یعنی جولائی تا دسمبر 2019 ٹویوٹا کی 14 ہزار 453 گاڑیاں بکی تھیں۔ اس لحاظ سے کمپنی کی گاڑیوں کی فروخت میں 82 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔

واضح رہے کہ جولائی 2020 سے دسمبر 2020 دوران ٹویوٹا کمپنی کا پاکستانی مارکیٹ میں حصہ 24 اعشاریہ 7 فیصد یعنی ملک میں مختلف کمپنیوں کی بکنے والی کل گاڑیوں میں سے 24 اعشاریہ 7 فیصد گاڑیاں ٹویوٹا کی تھیں۔

اگر کمپنی کی خالص بکری یعنی نیٹ سیلز کی بات کی جائے تو مذکورہ بالا ششماہی کے دوران اس نے گاڑیوں کی فروخت سے 79 ارب 65 کروڑ روپے حاصل کیے جبکہ مالی سال 2019-20 کی اسی ششماہی میں وہ عدد یا فگر 42 ارب 78 کروڑ روپے تھا۔

کمپنی نے اس زائد منافع کا سہرہ اپنی گاڑی ٹویوٹا یارس کے سر باندھا ہے جو گزشتہ برس متعارف کرائی کی گئی تھی۔

کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ اکتوبر 2020 میں لانچ کی گئی فورچونر ٹی آر ڈی کو بھی خریداروں کی جانب سے اچھی پذیرائی ملی۔

یاد رہے کہ آٹو پالیسی سن 2016 میں متعارف ہوئی تھی اور اس کا اختتام جون 2021 میں ہوجائے گا جس کے باعث کمپنیوں کی سالانہ پروڈکشن 5 لاکھ گاڑیوں تک پہنچی اور متعدد برانڈز سامنے آئے۔

تجزیہ کاروں نے گاڑیوں کی فروخت میں خاطر خواہ اضافے کی وجوہات خریداروں کی بڑھتی ہوئی قوت خرید اور شرح سود میں کمی کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے آٹو فنانسنگ کو فروغ ملا ہے۔

انڈس موٹرز کمپنی یا ٹویوٹا پاکستان کو جولائی تا دسمبر 2020 والی ششماہی میں فی شیئر 61 اعشاریہ 8 روپے کا منافع ہوا جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی دورانیے میں یہ منافع فی شیئر 29 اعشاریہ 32 روپے تھا۔

انڈس موٹرز کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر علی اصغر جمالی نے سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کے دوران کہا کہ آٹو موبائل انڈسٹری دوبارہ اٹھ چکی ہے کرونا وبا کے دوران لاک ڈاؤن کے باعث گاڑیوں کی صنعت پر مایوسی چھاگئی تھی تاہم حکومت کے بروقت فیصلوں کے تحت لاک ڈاؤن میں لائی جانے والی نرمیوں اور سازگار پالیسیوں کے باعث معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا۔

علی اصغر جمالی کا کہنا تھا کہ آٹو فنانسنگ میں اضافے کا ایک اور سبب شرح سود میں کمی ہے جس سے خریداروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More