امریکا نے ایران سے پابندی اٹھانے کا شارہ دیدیا

سماء نیوز  |  Apr 08, 2021

امریکا نے ایران پر عائد پابندیاں اٹھانے کا عندیہ دے دیا ہے۔

ترجمان امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکا ایران ایٹمی ڈیل پر واپسی کیلئے ضروری اقدامات پر تیار ہے۔ دوسری جانب یورپ کی مصالحت کاری میں ایران اور امریکا کے درمیان جوہری معاہدے کے حوالے سے بالواسطہ مذاکرات کا ویانا میں آغاز ہوگیا ہے۔

ایران کے مذاکرات کار عباس اراغچی کا کہنا ہے کہ ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ملاقات تعمیری رہی، جمعے کو ایک اور ملاقات ہو گی۔ دونوں دیرینہ حریفوں امریکا اور ایران کا کہنا ہے کہ انہیں کسی فوری کامیابی کی توقع نہیں ہے تاہم دونوں حکومتوں اور یورپی یونین نے ابتدائی بات چیت کو مثبت قرار دیا ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ منگل سے ویانا میں شروع ہونے والے مذاکرات میں ایران اور عالمی طاقتوں نے ابتدائی دور کو تعمیری قرار دیا ہے اور کہا کہ وہ تہران پر عائد امریکی پابندیوں پر بات چیت کیلئے ورکنگ گروپ قائم کرنے پر رضامند ہوگئے ہیں، تاکہ تہران پر عائد پابندیوں کو ختم اور سن 2015 کا جوہری معاہدہ بحال کیا جا سکے۔

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ یہ ایک خوش آئند قدم ہے، یہ ایک تعمیری قدم ہے، یہ ممکنہ طور پر ایک مفید قدم ہے۔ حالانکہ انہوں نے تسلیم کیا کہ بالواسطہ بات چیت بھی مشکل ہوگی۔

پس منظرواضح رہے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018 میں ایران کے ساتھ معاہدے سے دستبرداری کا اعلان کرتے ہوئے ایران پر معاشی پابندیاں عائد کردی تھیں جب کہ معاہدے کے دیگر عالمی فریقین برطانیہ، جرمنی، فرانس، روس اور چین نے ایران سے معاہدہ جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا۔

ویانا مذاکراتآسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں یورپی یونین کی صدارت میں منعقد ہونے والی میٹنگ میں ایران، چین، جرمنی، فرانس، روس اور برطانیہ کے نمائندے موجود رہے۔ امریکا اس میں شامل نہیں تھا البتہ امریکی وفد ویانا میں موجود تھا اور یوروپی یونین کے مذاکرات کار انہیں میٹنگ کی تفصیلات سے مسلسل آگاہ کرتے رہے۔

سن 2018 میں امریکا کے اس جوہری معاہدے سے یک طرفہ طور پر الگ ہوجانے کے بعد منگل کے روز ہونے والی میٹنگ کو اس معاہدے کو بچانے کی پہلی سنجیدہ کوشش قرار دیا گیا ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More