اتر پردیش: کیا اورنگزیب عالمگیر نے مندر گرا کر گیان واپی مسجد تعمیر کی؟

اردو نیوز  |  Apr 08, 2021

انڈیا کی ریاست اترا پردیش کے شہر وارانسی کی ایک عدالت نے آرکیالوجیکل سروے کو گیان واپی مسجد کا جائزہ لینے کا حکم دیا ہے جس کے ساتھ مشہور کاشی وشوناتھ نامی مندر بھی قائم ہے۔ 

انڈین نیوز چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق عدالت نے جمعرات کو 30 سال پرانی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کو مسجد کا جائزہ لینے کا حکم دیا ہے۔

عدالت میں دائر درخواست میں یہ مؤقف اپنایا گیا تھا کہ مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر نے سنہ 1664 میں ’لارڈ وشوشار‘ نامی قدیم مندر کو تباہ کر کہ یہاں مسجد قائم کی تھی۔

درخواست کے مطابق تباہ شدہ مندر کے مواد سے مسجد تعمیر کی گئی تھی۔

عدالتی حکم نامے میں آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے ڈائریکٹر جنرل سے پانچ اراکین پر مشتمل کمیٹی بنانے کو کہا گیا ہے جو مسجد کی تعمیر کے حوالے سے حقائق کا پتا لگائے گی۔

عدالت کے مطابق کمیٹی کی تشکیل میں ایسے ماہرین شامل کیے جائیں جو آرکیالوجی کی سائنس پر مکمل عبور رکھتے ہوں، جن میں سے دو کا تعلق اقلیتی جماعت سے ہو۔

عدالت نے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے ڈائریکٹر سے یہ بھی کہا ہے کہ کمیٹی کے مبصر کے طور پر کسی نامی گرامی سکالر یا ماہر تعلیم کو نامزد کیا جائے۔

عدالتی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ آرکیالوجیکل سروے کا بنیادی مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ کیا متنازعہ مقام پر موجود ’مذہبی عمارت‘ کسی دوسری مذہبی عمارت کے اوپر قائم کی گئی تھی یا یہ کسی بھی قسم کی رد و بدل کا نتیجہ ہے۔

کمیٹی اس بات کا بھی پتا لگائے گی کہ کیا مسجد سے پہلے اس مقام پر کوئی ہندو مندر قائم تھا جس کی جگہ پر بعد میں مسجد قائم کی گئی ہو۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن آر شمشاد کے مطابق سنہ 1991 میں بنائے گئے قانون کے تحت مقدمے پر سماعت نہیں کی جا سکتی، تاہم مقدمہ خارج کر دیا جائے۔

آر شمشاد نے بتایا کہ مقدمہ خارج کرنے کی درخواست عدالت میں دائر کی گئی تھی، اب معاملہ الہ آباد کی ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے کہ مقدمے پر سماعت کی جا سکتی ہے یا نہیں۔

آر شمشاد نے مزید کہا کہ جب معاملہ الہ آباد ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے تو اس صورتحال میں وارانسی کی عدالت کا مقدمے پر فیصلہ سنا دینا جائز نہیں ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More