ملک چھوڑ کر چلے جائیں اگر ایسی باتیں کرنی ہیں، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

روزنامہ اوصاف  |  Apr 09, 2021

لاہور(ویب ڈیسک )مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی جاوید لطیف نے ریاست مخالف بیان پر مقدمے کے اخراج کی درخواست لاہور ہائی کورٹ سے واپس لے لی۔لیگی رہنما جاوید لطیف چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کی عدالت میں پیش ہوئے۔چیف جسٹس قاسم خان نے استفسار کیا کہ ہماری حب الوطنی، حب الوطنی ہے یا حب الشخصیت ہے، شخصیات تو آتی جاتیرہتی ہیں ادارے قائم رہتے ہیں، گریبان میں جھانکنا ضروری ہے۔انہوں نے لیگی رہنما جاوید لطیف پر برستے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹیرینز کے بارے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتا لیکن کس کی جرات ہے جو پاکستان کے خلاف بات کرے، ملک چھوڑ کر باہر چلے جائیں اگر یہاں ایسی باتیں کرنی ہیں تو، خدا کا خوف کریں ایسی باتیں کیوں کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اگر یہاں رہنا ہے تو پولیس کے پاس جاکر صفائی پیش کریں، ملک کے خلاف بات کرنے والوں کو عوام مسل کر رکھ دیں گے۔جاوید لطیف کے وکیل نے کہا کہ ان کے موکل کے خلاف مقدمے میں قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گیے۔چیف جسٹس نے کہا کہ اس کے لیے آپ کے پاس فورم موجود ہیں وہاں جائیں۔انہوں نے کہا کہ جو آدمی ملک کے خلاف بات کرے گا اس کے لیے کوئی ریلیف نہیں ہے، ملک اور آئین کے خلاف باتیں کرتے ہیں پھر عدالتوں میں ریلیف کے لیے آجاتے ہیں۔جاوید لطیف نے لاہور ہائی کورٹ سے اپنی درخواست واپس لے لی۔بعد ازاں عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جاوید لطیف نے کہا کہ 73 سالوں سے غداری کے ٹائٹل لوگوں پر لگائے جاتے ہیں، ایٹمی صلاحیت کے باوجود کہا جارہا ہے کہ اندرونی حالات درست نہیں، جو غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹتے ہیں ان کو سوچنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندے ہونا کا حق اس وقت تک ادا نہیں ہوتا جب تک حقائق بیان نہ کیے جائیں، بینظیر بھٹو نے کہا تھا ان کی زندگی کو خطرہ ہے لیکن ریاست نے کچھ نہیں کیا، صرف پاکستان زندہ باد کہنے سے کچھ نہیں ہوگا غلطیوں کی نشاندہی کرنی چاہیے، آپ غداری کے ٹائٹل دیتے ہیں اور عوام زندہ باد کہتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسے حالات میں پھانسی بھی چڑھ جاؤں تو افسوس نہیں، ایسے پالیسیاں نہ بناؤ کہ غدار پیدا ہوں۔لیگی رہنما نے کہا کہ میں اپنے موقف پر قائم ہوں، اگر غلط ہوتا تو بیان واپس لیتا جبکہ آئینی اور قانونی اداروں پر اعتماد ہے اس لیے درخواست واپس لی۔واضح رہے کہ جاوید لطیف نے گزشتہ روز اپنے خلاف مقدمے کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔درخواست گزار کی جانب سے کہا گیا کہ لیگی رہنما جاوید لطیف کے خلاف غداری کا جھوٹا اور بے بنیاد مقدمہ درج کیا گیا۔اس کے ساتھ ہی درخواست میں لاہور ہائی کورٹ سے استدعا کی گئی کہ عدالت جاوید لطیف کے خلاف مقدمہ خارج کرنے کا حکم جاری کرے۔خیال رہے کہ رہنما مسلم لیگ (ن) جاوید لطیف نے گزشتہ ماہ مارچ میں ایک ٹی وی پروگرام میں مریم نواز کو مبینہ دھمکی دینے سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ 'اگر خدانخواستہ مریم نواز شریف کو کچھ ہوا تو ہم پاکستان کھپے کا نعرہ نہیں لگائیں گے'۔اس بیان پر 20 مارچ کو جاوید لطیف کے خلاف ریاست کے خلاف بغاوت پر اکسانے اور غداری سمیت سائبر کرائم ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا تھا۔میاں جاوید لطیف کے خلاف مقدمہ لاہور کے شہری جمیل سلیم کی مدعیت میں تھانہ ٹاؤن شپ میں درج کیا گیا تھا جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ جاوید لطیف نے ملک کی حکومت اور سالمیت کے ساتھ ریاستی اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کی۔ایف آئی آر میں کہا گیا تھا کہ 'رکن قومی اسمبلی نے ٹی وی پر ملکی سلامتی اور ریاستی اداروں کے خلاف بیان دے کر فوجداری، ملکی اور آئینی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے'۔مسلم لیگ (ن) ہی کے رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے جاوید لطیف کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ جاوید لطیف کے بیان سے متفق نہیں اور ان کو اپنے بیان پر معافی مانگنی چاہیے۔بعدازاں 22 مارچ کو سیشن کورٹ نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما جاوید لطیف کی ریاست مخالف تقریر کے مقدمے میں عبوری درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے پولیس کو ان کی گرفتاری سے روک دیا تھا۔
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More