یہ حکومت کا ایک احمقانہ فیصلہ ہو گا، خان صاحب! اگر کوئی مجبوری ہے تو

روزنامہ اوصاف  |  Apr 09, 2021

اسلام آباد(ویب ڈیسک )وفاقی حکومت کی جانب سے شوکت ترین کی بطور ممکنہ وزیر خزانہ نامزدگی کی گئی تو سوشل میڈیا صارفین بالخصوص تحریک انصاف کے کارکنان نے سوشل میڈیا پر اس کی بھرپور مذمت کی اور اس کی اس حد تک مخالفت کی کہ شوکت ترین نامنظور ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔تفصیلات کے مطابق مہنگائی پر قابو نہ پانے کے باعث حکومت کی جانب سے ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کو مشیر خزانہ سے ہٹا کر وفاقی وزیر حماد اظہر کو وزارت خزانہ کی اضافی ذمہ داریدی گئی ہے تاہم سابق وزیر خزانہ شوکت ترین کو ان کے تجربے کی بنیاد پر وزیر خزانہ یا مشیر خزانہ کے طور پر وفاقی کابینہ میں شامل کرنے کی پلاننگ کی جا رہی ہے۔اس حوالے سے سوشل میڈیا پر صارفین پھٹ پڑے اور شوکت ترین کو حکومت کا ایک غلط انتخاب قرار دیتے ہوئے ان کی بھرپور مخالفت کی۔ زوہیب بلال نامی صارف نے کہا کہ فضول بندوں کے علاوہ کوئی بندہ نہیں جو شوکت ترین کی یا کسی بھی ٹیکنوکریٹ کی پرفارمنس دیکھ لیں کیا تھی۔سکندر حیات نے کہا کہ خان صاحب! ہم سوچ رہے تھے آپ کو تنہائی میں غور و فکر کا ٹائم ملا ہے کچھ اصلاحات کریں گے لیکن آپ تو اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے چلے ہیں۔شاہ نواز نے کہا کہ شوکت ترین اس قابل نہیں ہیں۔نبیل کھوکھر نے کہا کہ یہ حکومت کا ایک احمقانہ فیصلہ ہو گا۔زوہیب حسن نے کہا کہ اگر خان صاحب نے شوکت ترین کو وزیرخزانہ بنایا تو میں مستقل طور پر پی ٹی آئی چھوڑ دوں گا کیونکہ چلے ہوئے کارتوس تبدیلی نہیں لا سکتے۔محمد سلمان نے کہا کہ خان صاحب شوکت ترین ایک ناکام فنانس منسٹر رہ چکے ہیں، کیوں آزمائے ہوئے ناکام لوگوں کو ہم پر مسلط کیا جا رہا ہے؟ اگر کوئی مجبوری ہے تو قوم کو کھل کر بتا دیں، نہیں تو حماد اظہر کو کام کرنے دیں۔حماد اصغر نے کہا کہ شوکت ترین کو وزیر خزانہ بنا کر مسلط نہ کیا جائے ورنہ وہ دیمک کی طرح ملک کو چاٹ لیں گے۔ایک صارف نے کہا کہ ایسے چور اچکوں کی بجائے کسی پڑھے لکھے قابل اور تجربہ کار انسان کو وزیر خزانہ بنایا جائے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے حکمرانوں کو ہدایت دے۔ارشد نامی وکیل نے کہا کہ کسی الیکٹڈ نمائندے کو لگایا جائے بجائے کسی سلیکٹڈ کے۔بدر نامی صارف نے کہا کہ شوکت ترین کو وزیر خزانہ بنایا جانا بالکل بھی قبول نہیں کیا جا سکتا۔ندیم نامی صارف نے کہا کہ شوکت ترین سلک بینک کے مالک ہیں اور ان کا اپنا بینک سٹیٹ بینک کے معیار پر پورا نہیں اتر سکا تو یہ ملک کو کیسے ٹھیک چلا سکیں گے۔ایک صارف نے کہا کہ یہ تو مذاق پر ایک اور مذاق ہے ایک اور بزدار کو مسلط کیا جا رہا ہے۔
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More