مسز سری لنکا کا تاج زبردستی چھیننے پر ’مسز ورلڈ‘ گرفتار

اردو نیوز  |  Apr 11, 2021

سری لنکا کی پولیس نے ’مسز سری لنکا‘ کا اعزاز حاصل کرنے والی پشپیکا ڈی سلوا کا تاج چھیننے اور سٹیج پر ہنگامہ آرائی کے جرم میں سابق مسز سری لنکا کو گرفتار کر لیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جمعرات کو سابق مسز سری لنکا اور موجودہ مسز ورلڈ کیرولین جوری اور ان کے ساتھی کو حملہ کرنے اور تھیٹر کو نقصان پہنچانے کے جرم میں گرفتار کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ اتوار کو کولمبو کے ایک تھیٹر میں مسز سری لنکا کے فائنل کی تقریب میں پشپیکا ڈی سلوا کو 2021 کی فاتح قرار دیا گیا تھا، جبکہ کیرولین جوری کو سنہ 2019 میں اسی اعزاز سے نوازا گیا تھا۔

کیرولین جوری نے اس سے اگلے سال 2020 میں ’مسز ورلڈ‘ کا اعزاز بھی اپنے نام کیا تھا۔

اتوار کو مسز سری لنکا کے فائنل کی تقریب سرکاری ٹی وی چینل پر بھی نشر کی گئی جس میں پشپیکا ڈی سلوا کو سال 2020 کی فاتح قرار دیا گیا اور جیسے ہی انہیں تاج پہنایا گیا توسابق مسز سری لنکا کیرولین جوری نے ان کے سر سے تاج جھپٹ لیا تھا۔

اس واقعے کے دوران پشپیکا ڈی سلوا کے سر پر چوٹیں بھی آئیں، جس کے بعد انہیں ہسپتال لے جایا گیا۔

مسز سری لنکا پشپیکا ڈی سلوا نے کولمبو میں پولیس سٹیشن کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر کیرولین جوری سب کے سامنے معافی مانگ لیں تو وہ کیس واپس لے لیں گی تاہم دوسری جانب کیرولین جوری نے معافی مانگنے سے انکار کیا ہے۔

کیرولین جوری کو سال 2020 میں ’مسز ورلڈ‘ کے اعزاز سے نوازا گیا تھا (فوٹو: انسٹا کیرولین جوری)ڈی سلوا کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’میں نے معاملے کو عدالت سے باہر حل کرنے کی کوشش کی تھی لیکن کیرولین جوری نے انکار کر دیا۔‘

ڈی سلوا نے مزید کہا کہ ’میں معاف کر سکتی ہوں، لیکن بھول نہیں سکتی۔‘

رپورٹ کے مطابق کیرولین جوری نے دعویٰ کیا تھا کہ ڈی سلوا طلاق یافتہ ہونے کے باعث مسز سری لنکا کے ٹائٹل کی حق دار نہیں ہیں۔

مسز سری لنکا کے مقابلے میں شریک ہونے کے لیے شادی شدہ ہونا لازمی ہے جبکہ ڈی سلوا کی شوہر سے علیحٰدگی ہو چکی ہے، تاہم وہ قانونی طور پر شادی شدہ ہیں۔ 

تقریب کے منتظمین کی جانب سے کیرولین جوری کو سٹیج پر ہونے والی توڑ پھوڑ کا ازالہ کرنے کا کہا گیا ہے۔ چھینا جھپٹی کے دوران بیک سٹیج ڈریسنگ روم کے کئی شیشوں نقصان پہنچا تھا۔

اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کیرولین جوری سے مسز ورلڈ کا اعزاز واپس لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More