وہ سمندری خطہ جہاں فضائی جہازوں کے غائب ہوجانے کے  واقعات کا ذکر دہائیوں سے ہورہا ہے

بول نیوز  |  Apr 11, 2021

یہ دنیاکا وہ سمندری خطہ ہے جہاں سے 50 سے زائد بحری جہاز جبکہ 20 طیارے یہاں غائب ہوچکے ہیں، جن کا ملبہ یا سراغ نہیں مل سکا ہے۔

کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ دنیا بھر میں وہ کونسا سمندری خطہ ہے جس کے بارے میں ہر ایک کو علم ہے کیونکہ اس کے بارے بحری اور فضائی جہازوں کے غائب ہوجانے کی حیران کن واقعات کا ذکر دہائیوں سے ہورہا ہے؟

یقیناً آپ کے ذہن میں برمودا تکون یا ٹرائی اینگل کا نام آیا ہو گا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس تکون کا رقبہ باضابطہ طور پر واضح نہیں کیا گیا مگر ایسا مانا جاتا ہے کہ یہ 5 لاکھ اسکوائر میل پر برمودا، فلوریڈا اور پیورٹو ریکو کے درمیان پھیلا ہوا ہے

واضح رہے اس خطے میں بحری جہازوں کے غائب ہونے واقعات کی کہانیاں 19 ویں صدی کے وسط میں پھیلنا شروع ہوئیں جبکہ کچھ جہازوں کو مکمل طور پر خالی دریافت کیا گیا جس کی وجہ سامنے نہیں آسکی۔

مگر اس کو شہرت دسمبر 1945 میں اس وقت ملی جب امریکی بحریہ کی فلائٹ 19 جو کہ 5 یو تارپیڈو بمبارطیاروں پر مشتمل تھی۔

اس فلائٹ میں موجو مسافر اٹلانٹک میں معمول کے مشن پر نکلی تھی جو  غائب ہوگئی تھی۔

تاہم طیاروں کا ملبی یا عملکے کے 14 ارکان کے بارے میں کچھ علم نہیں ہوسکا تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکا بحریہ کا یو ایس ایس سائیکلوپ بھی اس خطے میں 1918 میں گم ہوگیا تھا جس کا سراغ نہیں ملا تھا ،اس کے ساتھ 300 افراد بھی غائب ہوگئے تھے۔

اس کے بعد مضامین اور کتابیں جیسے چارلس برلیٹز کی 1974 میں شائع کتاب دی برمودا ٹرائی اینگل نے اس خطے کو دنیا بھر میں شہرت دلا دی تھی۔

اس کتاب میں برمودا ٹرائی اینگل کے بارے میں قدرتی اور ماورائی خیالات کو جگہ دی گئی تھی۔

اس کتاب کی 30 زبانوں میں 2 کروڑ کاپیاں فروخت ہوئیں تھیں۔

اس حوالے سے سائنسدانوں نے برمودا ٹرائی اینگل کے بارے میں توہمات کو ختم کرنے کی متعدد کوششیں کیں اور بحری و فضائی جہازوں کے غائب ہونے پر مختلف خیالات پیش کیے

2016 میں کولوراڈو یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں اس راز کو دریافت کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ اس خطے کے اوپر پھیلے شش پہلو بادل ممکنہ طور پر بحری جہازوں اور طیاروں کی گمشدگی کا باعث بنتے ہیں۔

اس حوالے سے کولوراڈو یونیورسٹی کے ماہرین کی تحقیق میں بتایا گیا کہ یہ شش پہلو بادل 65 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہوائیں پیدا کرتے ہیں۔

خیال رہے شش پہلو بادل ‘ہوائی بم’ کی طرح کام کرتے ہوئے بحری جہازوں کو غرق اور طیاروں کو گرا دیتی ہیں۔

سائنسدانوں نے ناسا کے سیٹلائیٹ کا استعمال کرتے ہوئے اس خطے کا ڈیٹا اکھٹا کیا اور شش پہلو بادلوں کو دریافت کیا جو کہ 32 اور 88 کلو میٹر رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ اس طرح کے بادل انتہائی غیر معمولی ہیں ‘ آپ عام طور پر بادلوں کے ایسے کونے نہیں دیکھتے’۔

دوسری جانب یہ خیال بھی پیش کیا گیا کہ سمندری تہہ میں موجود میتھین یا قدرتی گیس کی موجودگی اس معمے کے پیچھے ہوسکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس گیس کا اچانک اخراج جہازوں کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے اور اس کے باعث ہی طیارے اور جہاز غائب ہوجاتے ہیں، کیونکہ یہ گیس ہوا میں داخل ہوکر طوفانی کیفیت پیدا کرسکتی ہے جس سے طیارے گرجاتے ہیں۔

دوسری جانب 2017 میں آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے سائنسدان  نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس سمندری خطے میں متعدد بحری جہازوں اور طیاروں کے بغیر کسی سراغ کے غائب ہونے کے پیچھے خلائی مخلق یا اٹلانٹس کے گمشدہ شہر کے فائر کرسٹلز کا ہاتھ نہیں

ان کا کہنا تھا کہ اتنی بڑی تعداد میں گمشدگیاں ماورائی نہیں بلکہ خراب موسم کا نتیجہ ہوسکتے ہیں اور اگر اوسط کے اعتبار سے دیکھا جائے تو دنیا میں ہر جگہ اس طرح بحری اور ہوائی جہاز غائب اتنی تعداد میں ہی غائب ہوتے ہیں

انہوں نے مزید کہا کہ یہ سمندری تکون 5 لاکھ اسکوائر میل رقبے پر پھیلی ہوئی ہے اور یہاں بہت زیادہ سمندری ٹریفک ہوتی ہے

انہوں نے مزید کہا کہ یہ سمندری تکون 5 لاکھ اسکوائر میل رقبے پر پھیلی ہوئی ہے اور یہاں بہت زیادہ سمندری ٹریفک ہوتی ہے

ان کے بقول جب آپ وہاں غائب ہونے والے جہازوں کی تعداد پر غور کریں تو یہ نتیجہ نکالیں گے کہ دیگر سمندری خطوں کے مقابلے میں اس میں کچھ بھی غیرمعمولی نہیں

آسٹریلین سائنسدان کے مطابق امریکی بحریہ کی فلائٹ 19 کا واقعہ خراب موسم اور انسانی غلطی کے باعث پیش آیا تھا جس کا عملہ بھی نشے میں دھت تھا۔

2018 میں برطانیہ کے سائنسدانوں کا خیال تھا کہ اس سمندری تکون کا راز وہاں کی 100 فٹ بلند تیز لہروں میں چھپا ہے

تحقیقی ٹیم کا ماننا تھا کہ برمودا ٹرائی اینگل کے اسرار کی وضاحت تند و تیز لہروں سے ممکن ہے۔

تاہم کسی بھی تحقیق میں اب تک اس سوال کا جواب سامنے نہیں آسکا کہ اگر بادل یا لہر جہازوں اور طیاروں کی تباہی کا باعث بنتے ہیں تو ان کا ملبہ کہاں جاتا ہے، کیونکہ ایک غیرمصدقہ رپورٹ کے مطابق ہر سال اس خطے میں اوسطاً چار طیارے اور 20 بحری جہاز گم ہوجاتے ہیں۔

-->
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More