تحریک لبیک کے احتجاج میں شدت، بعض علاقوں میں انٹرنیٹ سروس بند

اردو نیوز  |  Apr 13, 2021

تحریک لبیک پاکستان کے کارکنوں نے جماعت کے سربراہ سعد رضوی کی رہائی کے لیے پنجاب کے مختلف شہروں میں احتجاج دوبارہ شروع کردیا ہے جبکہ اسلام آباد کے بعض علاقوں میں انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی ہے۔

لاہور اور جی ٹی روڈ پر واقع کئی شہروں میں پولیس اور ٹی ایل پی کے کارکنوں کے مابین جھڑپیں ہوئی ہیں۔  

 لاہور میں پولیس کے مطابق اب تک 40 پولیس اہلکار زخمی ہو چکے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف ٹی ایل پی کا کہنا ہے کہ پولیس کے ساتھ تصادم میں ان کے بھی کئی درجن کارکن زخمی ہوئے ہیں۔

تحریک لبیک پاکستان کے کارکنوں کا اپنے رہنما کی گرفتاری کے خلاف ملک کے  مختلف شہروں میں احتجاج جاری ہے۔ لاہور، اسلام آباد اور کراچی سمیت کئی شہروں میں بعض مقامات پر سڑکیں بدستور بند ہیں جس کی وجہ سے ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہے۔

خیال رہے کہ یہ احتجاج ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی کی لاہور میں گرفتاری کے بعد شروع ہوئے تھے۔  

ترجمان موٹر وے پولیس کے مطابق پنجاب میں ملک کی بڑی شاہراہوں کو 22 مقامات پر بند کیا گیا تھا جن میں سے آٹھ مقامات پراب ٹریفک رواں دواں ہے۔ لاہوراسلام آباد موٹروے کا فیض پور انٹرچینج جو پیر سہ پہر چار بجے بند کیا گیا تھا اسے منگل کی صبح پانچ بجے مظاہرین کے منتشر ہونے کے بعد کھول دیا گیا ہے۔

اسی طرح لاہور ملتان موٹروے کا شرقپور انٹرچینج بھی صبح سات بجے کلیئر کروا لیا گیا ہے اور یہ بھی عام ٹریفک کے لیےکھلا ہے۔ پولیس کے مطابق لاہور اسلام آباد موٹر وے کے تمام انٹرچینج دونوں اطراف سے اس وقت کھلے ہیں اور عوام موٹر پر سفرکر سکتے ہیں۔

جی ٹی روڈ اس وقت تک ہٹیاں، کامونکی، چیچہ وطنی، جوہی موڑ اور سادھوکی کے مقامات پر کلیئرکروا لیا گیا ہے لیکن اٹیکسلا، گجرخان، روات، دینہ، لالہ موسی، چن دا قلعہ، مریدکے اور رینالہ خورد کے مقام ابھی بھی بند ہیں۔  

پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں شہر کی سڑکیں جزوی طور پر کھلوا لی گئی ہیں۔ رات گئے پولیس نے شاہدرہ چوک میں  آپریشن کر کے مظاہرین کو منتشر کیا اور ہسپتالوں میں آکسیجن کی فراہمی کو بحال کیا۔

یہ احتجاج ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی کی لاہور میں گرفتاری کے بعد شروع ہوئے تھے (فوٹو: اے ایف پی)پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں تاہم پولیس نے اس حوالے سے ابھی تک تفصیلات میڈیا کو فراہم نہیں کی ہیں۔

فیروز پور روڈ اور ملتان روڈ ابھی بھی احتجاج کے باعث بند ہیں تاہم پولیس نے کینال روڈ کو کلیئرکروا لیا ہے۔  

کراچی میں اردونیوز کے نمائندہ توصیف رضی کے مطابق مذہبی جماعت سے وابستہ کارکنوں کی جانب سے منگل کی صبح بھی کراچی کے کچھ علاقوں میں دھرنا دیا جا رہا ہےجس کے باعث سڑک بلاک ہے۔  

بلدیہ حب ریور روڈ اور کورنگی ڈھائی نمبرپر دھرنا جاری ہے جس کی وجہ سے کورنگی ڈھائی سے تین نمبر جانے والی سڑک ٹریفک کے لیے بند ہے۔  

ٹریفک پولیس کی جانب سے فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق شارع فیصل سٹار گیٹ پر بڑی تعداد میں پولیس کی نفری موجود ہے۔

مظاہرین کی جانب سے بار بار سڑک کو بند کیا جارہا ہے تاہم پولیس کی جانب سے سڑک کھلوا کر اضافی نفری تعینات کردی گئی ہے جس کے بعد ملیر سے ایئرپورٹ آنے اور جانے والی سڑک کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے۔  

پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرین ابھی بھی سڑک کے اطراف موجود ہیں اور ان کی جانب سے بار بار مداخلت کے باٰعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے۔  

دوسری جانب اورنگی ٹاون نمبر 5 میں جاری دھرنا ختم کر کے ٹریفک بحال کردیا گیا ہے۔  

پیر اور منگل کی درمیانی شب شہر کے کئی مقامات بشمول میری ویدر ٹاور، حسن سکوائر، نارتھ کراچی اور سٹار گیٹ پر دھرنے کے باعث ٹریفک کی روانی معطل رہی تاہم صبح ہونے تک ان مقامات سے مظاہرین کو منتشر کر دیا گیا۔ 

اسلام آباد کے بعض علاقوں میں انٹرنیٹ سروس بندترنول، فیض آباد، ایکسپریس وے سمیت دیگر علاقوں میں آج رات دس بجے تک انٹرنیٹ سروس معطل رہے گی۔ (فوٹو: انسپلیش)پاکستان کی وفاقی وزارت داخلہ کی نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو اسلام آباد کے کچھ علاقوں میں انٹرنیٹ سروس بند کرنے کی درخواست کی ہے۔

وزارت داخلہ کی جانب سے 12 اپریل کو پی ٹی اے کو ارسال کیے گئے مراسلے میں تونول، فیض آباد، روات ٹی چوک، ترامڑی چوک، اسلام آباد ایکسپریس وے اور اٹھال چوک بارہ کہو کے علاقوں میں انٹرنیٹ سروس بند کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

سیکشن آفیسر سکیورٹی کے دستخط سے جاری ہونے والے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ 12’ اپریل کی صبح 10 بجے سے لے کر 13 اپریل رات 10 بجے تک، 24 گھنٹے کے لیے مذکورہ علاقوں میں انٹرنیٹ سروس بند رکھی جائے۔‘

مراسلے کے مطابق اس کی نقل معتلقہ اداروں اور محکموں کو بھی بھجوا دی گئی ہے۔

آج منگل کے روز اسلام آباد کے ان علاقوں کے علاوہ بعض دیگر مقامات پر بھی انٹرنیٹ سروس معطل رہی۔

 

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More