رمضان میں ورزش کے لیے بہترین وقت کیا ہے؟

وائس آف امریکہ اردو  |  Apr 14, 2021

کراچی — 

وزیرِ اعظم عمران خان سے حال ہی میں ٹیلی فون کے ذریعے عوام سے بات چیت کے سیشن دوران ایک شہری نے سوال کیا تھا کہ وہ رمضان میں کس وقت ورزش کرتے ہیں۔

شہری کے سوال کے جواب میں وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ وہ رمضان میں ہمیشہ روزہ کھولنے سے پہلے ہی ورزش کرتے ہیں۔

عمران خان نے کہا تھا کہ اگر آپ روزہ رکھ کر ورزش نہیں کر رہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ رمضان کو ضائع کر رہے ہیں۔

رمضان میں ورزش کے حوالے سے متعدد افراد کے ذہن میں بے شمار سوالات جنم لیتے ہیں کہ آیا روزہ رکھ کر ورزش کی جا سکتی ہے یا نہیں۔ اور رمضان میں ورزش کرنے کا بہترین وقت کیا ہو سکتا ہے۔

ان سوالات کے حوالے سے کراچی کے آئی ایس ایس اے سرٹیفائیڈ کارڈیو اینڈ ڈائیٹرک ٹرینر اور ڈینٹل سرجن ڈاکٹر حسنین رضوی نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ رمضان میں ورزش کرنا نہایت ضروری ہے ورنہ آپ بہت سست روی کا شکار ہو جاتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ رمضان میں ورزش کرنا مکمل طور پر محفوظ ہے۔ لوگوں کو رمضان میں بھی ورزش کے سلسلے کو جاری رکھنا چاہیے۔ کیوں کہ یہ جسم کو پُھرتیلا اور توانا رکھتی ہے۔

رمضان میں ورزش کا بہترین وقت؟

بہت سے افراد رمضان میں ورزش کرنے کے اوقات کے حوالے سے تذبذب میں مبتلا ہوتے ہیں کہ انہیں روزہ رکھ کر ورزش کرنی چاہیے یا روزہ کھولنے کے بعد۔

اس ضمن میں ڈاکٹر حسنین رضوی کا کہنا ہے کہ رمضان میں ورزش کرنے کے اوقات بہت زیادہ معنی رکھتے ہیں کہ آپ کس وقت ورزش کر رہے ہیں۔

ان کے بقول اگر آپ روزے کے حالت میں صبح ہی ورزش کر لیتے ہیں تو یہ آپ کی صحت کے لیے ایک اچھا فیصلہ ثابت نہیں ہو گا۔ کیوں کہ صبح ورزش کرنے کے بعد آپ کے جسم میں پورا دن گزارنے کے لیے توانائی باقی نہیں رہے گی۔

SEE ALSO:سبز چائے عمر میں اضافہ کرتی ہے

انہوں نے رمضان میں ورزش کے بہترین وقت کے حوالے سے بتایا کہ افطار سے 20 سے 30 منٹ پہلے ورزش کرنا معاون ثابت ہوتا ہے۔ کیوں کہ جب آپ ورزش کر کے فارغ ہوں گے تو اس کے تھوڑی ہی دیر بعد روزہ کھولنے کا وقت ہو جاتا ہے۔

ان کے مطابق اگر کوئی روزے کی حالت میں ورزش نہیں کرنا چاہتا تو انہیں چاہیے کہ وہ افطار میں بہت ہلکی غذا لیں اور افطار کے کچھ دیر بعد ورزش کی جا سکتی ہے۔

روزے کی حالت میں کس قسم کی ورزش کی جا سکتی ہے؟

ڈاکٹر حسنین رضوی کہتے ہیں کہ ہمیں ہائی انٹینسیٹی انٹرول ٹریننگ یا ورک آؤٹ کرنے چاہیئں۔

ہائی انٹینسیٹی انٹرول ٹریننگ میں لنجز، اسکواٹس، رننگ، کرنچز اور اس طرح دیگر ایکسر سائز شامل ہوتی ہیں جس سے دل کی دھڑکن تیز ہوتی ہے اور یہ ورزش جسم کی چربی کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

ڈاکٹر حسنین رضوی کا کہنا ہے کہ کوشش کرنی چاہیے کہ کم از کم 20 منٹ ورزش لازمی کی جائے اور ہر دو سے تین دن بعد اپنی ورزش کا دورانیہ بڑھانا چاہیے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر روزانہ ایک ہی طرح کی ورزش کی جائے تو اس سے جسم پر اثرات کم ہوں گے۔

ان کے بقول اگر روزانہ ٹریڈ مِل (ورزش کی مشین) کے ذریعے بھی ورزش کی جائے تو دو سے تین دن بعد ٹریڈ مِل کی رفتار اور دورانیے کو بڑھاتے رہنا چاہیے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ رمضان میں روزہ رکھنے اور ورزش کرنے سے بہت توانائی خرچ ہوتی ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ ایسی غذا کا استعمال کیا جائے جو غذائیت سے بھر پور ہو۔ پھل اور سبزیاں توانائی بخش ہوتی ہیں اور ساتھ ہی پانی کا استعمال زیادہ سے زیادہ کرنا چاہیے۔

SEE ALSO:کیا پالتو جانور جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے اچھے ہوتے ہیں؟رمضان میں وزن کم اور معتدل رکھنے کا طریقہ

ڈاکٹر حسنین رضوی کے مطابق رمضان میں فٹ رہنے کا ایک انتہائی آسان طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنے وزن، قد اور عمر کے حساب سے مینٹیننس کیلوریز نکالیں۔

ان کے مطابق مینٹیننس کیلوریز وہ ہوتی ہیں جس سے وزن معتدل رہتا ہے۔ اگر مینٹیننس کیلوریز سے زیادہ کیلوریز لی جائیں۔ تو اس سے وزن بڑھے گا اور اگر اس سے کم کیلوریز لی جائیں اس سے وزن کم ہونا شروع ہو جائے گا۔

اس حوالے سے سب سے پہلے یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ 'کیلوریز' ہوتی کیا ہیں؟ ہم روز مرہ جو بھی غذا کھا رہے ہوتے ہیں اس میں کیلوریز ہوتی ہیں اور غذا میں موجود یہی کیلوریز انسان کو توانا اور کام کاج کرنے کے قابل بناتی ہیں۔

ہر کھانے میں کیلوریز کی مقدار الگ الگ ہوتی ہے اور وزن کم کرنے یا معتدل رکھنے کے لیے غذا کی کیلوریز دیکھتے ہوئے ہی اس کا انتخاب کرنا ہوگا۔

ڈاکٹر حسنین رضوی کا کہنا ہے کہ اگر رمضان میں اپنا وزن کم کرنا ہے تو مثال کے طور پر آپ کی مینٹیننس کیلوریز 1800 ہیں تو وزن کم کرنے کے لیے 1400 یا 1500 کے قریب کیلوریز لینی ہوں گی۔ اسی طرح کی غذا لینے سے آپ کا وزن کم ہونا شروع ہو جائے گا۔

ایسے لوگ جو رمضان میں اپنا وزن معتدل رکھنا چاہتے ہیں تو وہ اپنی مینٹیننس کیلوریز کو مدِ نظر رکھ کر ہی غذا کا انتخاب کر سکتے ہیں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More