روس: اپوزیشن رہنما نوالنی کسی بھی وقت مر سکتے ہیں، معالج کا انتباہ

وائس آف امریکہ اردو  |  Apr 18, 2021

ویب ڈیسک — 

روس میں حزبِ اختلاف کے اسیر رہنما الیکسی نوالنی کے معالج نے کہا ہے کہ تین ہفتے سے بھوک ہڑتال کرنے والے نوالنی کی صحت مسلسل بگڑ رہی ہے اور وہ کسی بھی وقت مر سکتے ہیں۔

ڈاکٹر یاروسلاو اشیخمن کے مطابق نوالنی کے میڈیکل ٹیسٹ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ان کے جسم میں پوٹاشیم کی مقدار میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے انہیں دل کا دورہ پڑ سکتا ہے۔ ڈاکٹر کے بقول ان کے ٹیسٹ گردوں کی خرابی کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں۔

خیال رہے کہ 44 سالہ سیاست دان نے کمر اور ٹانگوں میں درد کی شکایت کرتے ہوئے اپنے معالجین کی رسائی کا مطالبہ کیا تھا جسے مسترد کرنے پر اُنہوں نے بھوک ہڑتال شروع کر دی تھی۔

دوسری جانب روسی حکام کا مؤقف تھا کہ نوالنی کو ضرورت کے مطابق تمام تر میڈیکل سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

ایک فیس بک پوسٹ میں ڈاکٹر اشیخمن نے لکھا کہ اُنہوں نے الیکسی نوالنی کے خاندان کی جانب سے ملنے والی اُن کی میڈیکل رپورٹس کا جائزہ لیا ہے جس کے مطابق اُن کی حالت تشویش ناک ہے اور وہ کسی بھی وقت مر سکتے ہیں۔

نوالنی کو فروری میں عدالت نے فراڈ کے الزام میں ڈھائی سال قید کی سزا سنائی تھی۔ البتہ نوالنی اپنے خلاف مقدمے کو سیاسی قرار دیتے ہیں۔

SEE ALSO:روس: اپوزیشن رہنما نیوالنی کے حق میں احتجاج، پانچ ہزار سے زائد مظاہرین گرفتار

واضح رہے کہ روس کے حزبِ اختلاف کے سینئر رہنما اور حکومت کے ناقد الیکسی نوالنی کو بے ہوشی کی حالت میں گزشتہ سال اگست میں روس سے جرمنی منتقل کیا گیا تھا۔

الیکسی نوالنی سائبیریا سے ماسکو آتے ہوئے جہاز میں بے ہوش ہو گئے تھے۔

ان کے قریبی ساتھیوں نے انہیں مبینہ طور پر زہر دینے کے الزامات عائد کیے تھے۔ اس حوالے سے نوالنی کے حامیوں کی جانب سے روسی صدر ولادی میر پوٹن پر بھی الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔ تاہم پوٹن انتظامیہ ان الزامات کی تردید کرتی رہی ہے۔

الیکسی نوالنی کا جرمنی کے دارالحکومت برلن کے ایک اسپتال میں علاج ہوا تھا۔ جہاں یہ انکشاف ہوا تھا کہ اُنہیں اعصاب مفلوج کر دینے والا کیمیائی مادہ دیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق قید کے بعد اب تک نوالنی کے وزن میں 16 کلو گرام کی کمی ہوئی ہے۔

امریکہ اور دوسرے مغربی ممالک نے نوالنی کو زہر دینے کے الزامات پر روسی حکام کے خلاف پابندیاں عائد کرتے ہوئے نوالنی کی فوری رہائی پر زور دیا ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More