پاکستان ایران سرحد کی بندش، بھوک پیاس سے چار مزدوروں کی مبینہ ہلاکت کی اطلاع

وائس آف امریکہ اردو  |  Apr 19, 2021

کوئٹہ — اطلاعات کے مطابق، پاکستان اور ایران کی سرحد بند ہونے کے ایک ماہ کے دوران چار پاکستانی مزدور بھوک اور پیاس سے ہلاک ہو چکے ہیں۔

صوبہ بلوچستان کے ضلع ’کیچ‘ میں پاک ایران سرحد کو حکام نے ’جالگی‘ کے مقام پر گزشتہ ایک ماہ سے بند کر رکھا ہے۔ اس علاقے سے بڑی تعداد میں ایرانی گاڑیوں کے ذریعے تیل اسمگل کیا جاتا ہے۔

سرحد کی بندش کے باعث جالگی کے مقام پر سیکڑوں کی تعداد میں تیل کا کاروبار کرنے والے ڈرائیور اور مزدور پھنس گئے ہیں۔

ضلع کیچ کی ٹریڈ ایکشن کمیٹی کے ترجمان داد جان نے بتایا کہ ایک مہینے سے جالگی کے مقام پر پاک ایران سرحد کو فرنٹئیر کور نے بند کر رکھا ہے۔ یہاں ایران سے تیل کی اسمگلنگ کرنے والی گاڑیوں کو روکا گیا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستانی حکام کی جانب سے ایرانی تیل کی غیر قانونی ترسیل کے عمل کو روکنے کے لیے ایرانی بارڈر کو بند کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

ادھر پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے 'اے پی پی' کے مطابق وفاقی وزیر دفاعی پیداوار زبیدہ جلال نے کہا ہے کہ پاک ایران سرحدی علاقے کے مکینوں کو ریلیف دلانے کے لیے وزیرِاعظم پاکستان اور سدرن کمانڈ بلوچستان سے بات کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ زعمران جالگی بارڈر پوائنٹ میں اشیائے خوردنی کی عدم دستیابی سے لوگوں کو درپیش مسائل کا ہمیں ادراک ہے، جلد لوگوں کو ریلیف دلائیں گے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاک ایران سرحد سے ملحقہ مقامات پر قانونی طریقے سے بارڈر ٹریڈ شروع کرانے کے لیے بارڈر مارکیٹ کے قیام کی وفاقی حکومت سے منظوری کروائی ہے اور دیگر سرحدی راہداری سے ملحقہ مقامات پر بارڈر مارکیٹ سائٹ کی نشان دہی کر دی گئی ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More