موئن جو دڑو کے 'کنگ پریسٹ' کے مجسمے کی 'بے حرمتی' کے الزام میں دو افراد گرفتار

وائس آف امریکہ اردو  |  Apr 19, 2021

کراچی — سندھ پولیس نے تاریخی آثار قدیمہ موئن جو دڑو میں ’پریسٹ کنگ‘کے مجسمے کی نقل کے سامنے نامناسب اشارے کرنے والے دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔ ان ملزمان پر مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

گل محمد ہلیو اور اس کے بیٹے تعمیر حسین کو پولیس نے لاڑکانہ کی تحصیل رتوڈیرو سے گرفتار کیا ہے جبکہ تیسرا ملزم جاوید آہیر تاحال روپوش ہے۔

ضلع لاڑکانہ کے ایئرپورٹ تھانے میں اتوار کو ایک مقدمہ درج ہوا تھا۔ وادی سندھ میں موئن جو دڑو کے آثار قدیمہ میں تعینات سیکیورٹی گارڈ محمد اسماعیل اس مقدمے میں درخواست گزار ہیں۔

محمد اسماعیل نے مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک تصویر دیکھی جس میں ’موئن جو دڑو‘ کے آثار کے داخلی راستے پر نصب ’کنگ پریسٹ‘ یعنی سب سے بڑے مذہبی پیشوا کے مجسمے کی نقل کی تذلیل کرکے اس کی جانب نامناسب اشارے کیے جارہے ہیں۔

یہ مجسمہ ’پریس کنگ‘ کے موئن داڑو سے دریافت ہونے والے نادر مجسمے کی نقل ہے جسے سندھ کی قدیم اور تاریخی تہذیب کے نمائندہ آثار میں شمار کیا جاتا ہے۔

بعض ماہرین نے ’پریسٹ کنگ‘ کو پروہت راجہ قرار دیا تو کسی نے اسے روحانی پیشوا کہا ہے۔ بعض کے نزدیک اجرک نقش و نگار نشانات اور منفرد پتھر سے بنائے جانے والا یہ مجسمہ حکمرانی کی بھی علامت سمجھا جاتا ہے۔

مقدمے کے اندراج میں درخواست گزار کے حوالے سے مزید بتایا گیا کہ اس تصویر کے رد عمل کے طور پر آرکیالوجی ڈپارٹمنٹ کے افسرانِ بالا نے ایف آئی آر درج کرانے کی ہدایت دی۔

مقدمے میں کہا گیا ہے کہ ان افراد نے درحقیقت ’کنگ پریسٹ‘ کی بے حرمتی کی ہے۔ پولیس نے مقدمے میں تعزیزات پاکستان کی دفعہ 295 اے شامل کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ 295 اے پاکستان کے مجموعۂ تعزیرات کے مذہب سے متعلق جرائم میں شامل ہے۔ جس کے تحت کسی کے مذہبی جذبات اور اعتقاد کی جان بوجھ کر بدنیتی کی بنا پر توہین کرنے کو جرم قرار دیا گیا ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق اس جرم کے تحت ایسے کسی بھی قولی، فعلی یا علامتی عمل کو بھی جرم قرار دیا گیا ہے جس سے کسی مذہب کی توہین کا پہلو نکلتا ہو۔اس جرم کے تحت ملزمان کو دس سال تک قید اور جرمانہ یا دونوں سزائیں بھی ہوسکتی ہیں۔

سندھ کے وزیر ثقافت، سیاحت و نوادرات سید سردار علی شاہ نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی مذہب کی توہین یا بے حرمتی برداشت نہیں کی جائے گی اور جنہوں نے ایسا کیا ہے کہ ان کے خلاف قانون کو حرکت میں لایاجائے گا۔

وزیر ثقافت کا کہنا ہے کہ عملے کو یہ ہدایات جاری کردی گئی ہیں کہ نوادرات کی حفاظت، تمام مذاہب اور تہذیبوں کی تکریم کو یقینی بنایا جائے۔

فی الحال محکمے کو یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ یہ تصاویر کب کی ہیں لیکن خیال کیا جارہا ہے کہ یہ تصاویر یہاں فروری کے مہینے میں آنے والوں نے حال ہی میں سوشل میڈیا پر جاری کی تھیں۔

’اپنی نوعیت کا پہلا مقدمہ‘ موئن جو دڑو پر تعینات شعبہ آرکیالوجی کے عملے کے ایک افسر نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے جو توہین مذہب کی دفعات کے تحت انتظامیہ کی جانب سے درج کیا گیا ہے۔ تاہم اس سے پہلے موئن جو دڑو کی زمین پر قبضے اور تجاوزات قائم کرنے کے خلاف مقدمات ہوتے رہے ہیں۔

ساڑھے چار ہزار سالہ قدیم ’جدید شہر‘واضح رہے کہ موئن جو دڑو کے بارے میں ماہرین آثار قدیمہ کا خیال ہے کہ یہ تقریبا ساڑھے چار ہزار سال قدیم شہر تھا۔

اس کے 555 ایکڑ رقبے پر پھیلے علاقے کے اب تک صرف 10 فی صد کھنڈرات ہی کی کھدائی کی گئی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسکو کی جانب سے موئن جودڑو کو ثقافتی ورثہ قرار دیا گیا ہے۔ یہ شہر 1911 میں دریافت ہوا تھا جس پر کھدائی 1922 میں سرجان مارشل کی نگرانی میں شروع کی گئی تھی۔

کھدائی سے دریافت ہوا کہ یہ شہر اپنے وقت کا جدید شہر تھا جسے بہترین شہری منصوبہ بندی کے ساتھ تعمیر کیا گیا تھا۔

ہزاروں سال پہلے اس شہر میں باقاعدہ سیوریج سسٹم موجود تھا جب کہ یہاں کے لوگوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بڑے تاجر تھے۔ تاہم اس علاقے کی تحریر میں استعمال ہونے والے رسم الخط اور اس قدیم شہر کے باسیوں کے مذہب کے بارے میں تحقیق جاری ہے۔ اس شہر کی تباہی کے بارے میں بھی ماہرین کی مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More