ٹی ایل پی کالعدم قرار، سنگین صورتحال برقرارہے، کنول شوذب

سماء نیوز  |  Apr 22, 2021

تحریک انصاف کی رہنماء کنول شوذب کا کہنا ہے کہ جس صورتحال میں تحریک لبیک پاکستان کو کالعدم قرار دیا گیا تھا وہ تاحال برقرار ہے۔

سماء کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں گفتگو کرتے ہوئے کنول شوذب نے کہا کہ ہنگاموں اور فساد سے پہلے تحریک لبیک پاکستان ایک سیاسی جماعت ضرور تھی لیکن فی الوقت یہ ایک کالعدم جماعت ہے تاہم اس کے پاس اپیل کا حق ضرور موجود ہے۔

کنول شوذب کا کہنا تھا کہ 57 اسلامی ممالک میں کہیں بھی یہ نہیں ہوا کہ کسی نے اپنے ہم وطنوں کو نقصان پہنچایا ہو یا اپنے ملک میں جلاؤ گھیراؤ کیا ہو۔

اس تمام صورتحال پر اپوزیشن کے اعتراضات کے حوالے سے کنول شوذب کا کہنا تھا کہ اگر حکومت طاقت کا استعمال کرتی تو کہا جاتا کہ ایسا کیوں کیا اور اب جب مذاکرات کئے گئے ہیں تو اس پر بھی اعتراض ہے۔

حالیہ معاہدے سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ٹی ایل پی کے ساتھ جو مذاکرات ہوئے وہ ریکارڈ پر ہیں اور قرارداد کا جو مسودہ اسمبلی میں پیش ہوا ہے، وہی معاہدہ ہے۔

رہنماء تحریک انصاف کا مزید کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی اور ن لیگ نے اپنے ادوار میں ٹی ایل پی کے ساتھ کیا معاہدے کیے آج تک کسی کو پتہ نہیں چل سکا۔

معاملے کو پارلیمنٹ میں لے جانے پر اپوزیشن کے اعتراضات پر ان کا کہنا تھا کہ اگر اتنے اہم معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث نہیں ہوگی تو پھر کس پر ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ قومی اسمبلی اجلاس میں شاہد خاقان عباسی کا رویہ افسوسناک تھا۔

مسلم لیگ ن کے رہنماء عطاء تارڑ نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لاہور میں جو ہوا اس کی ساری ذمہ داری صوبائی حکومت کی ہے لیکن ابھی تک کسی صوبائی عہدیدار کا کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

عطاء تارڑ کا کہنا تھا کہ حکومت نے صورتحال کو سمجھنے میں غلطی کی اور سعد رضوی کو گرفتار کیا جس کے بعد دباؤ میں آکر اسے ٹی ایل پی کے مطالبات ماننے پڑے۔

 رہنماء ن لیگ کا کہنا تھا کہ حکومت نے ایک دن کہا یہ کالعدم جماعت ہے اور اگلے دن اسی کالعدم جماعت سے مذاکرات کرلیے۔

عطاء تارڑ نے کہا کہ اتنے دن گزرنے کے باوجود نہ پرتشدد واقعات کی انکوائری کرائی گئی اور نہ ہی پولیس اور مظاہرین کے جاں بحق افراد کی کوئی رپورٹ سامنے آسکی ہے۔

قومی اسمبلی میں قرارداد سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ کیا حکومت نے سعد رضوی کو گرفتار کرنے سے پہلے پارلیمنٹ سے پوچھا تھا جو اب پارلیمنٹ کے پیچھے چھپ رہی ہے۔

حالیہ معاہدہ سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ کیا معاہدہ صرف یہ ہوا ہے کہ فرانس کے سفیر کو نکالیں گے یا صرف قرارداد پر بحث ہوگی۔

رہنماء ن لیگ کا کہنا تھا کہ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ایک ناتجربہ کار شخص وزیراعظم ہاؤس میں بیٹھ گیا ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More