تحریک لبیک کا معاملہ کیسے ’ہینڈل‘ کیا گیا؟ تجزیہ کاروں کی رائے

وائس آف امریکہ اردو  |  Apr 21, 2021

اسلام آباد — پاکستان کے وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ تحریک لبیک کالعدم قرا ر دیے جانے کے خلاف تیس دن میں اپیل کرسکتی ہے۔ تحریک کے سربراہ سعد رضوی کی رہائی نہ ہونے پر شیخ رشید کا کہنا تھا کہ سعد رضوی 302 اور 7 اے ٹی اے کے تحت گرفتار ہیں۔ قانونی مراحل سے ان کو گزرنا ہوگا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹی ایل پی کے حوالے سے فیصلہ سازی کے عمل میں بہت سی غلطیاں ہوئیں جن کا خمیازہ کئی جانوں کے نقصان کی صورت میں اٹھانا پڑا، کسی بھی جماعت کو پرتشدد ہونے کی وجہ سے اگر پابندی لگائی جائے تو اس میں صرف مذہبی جماعتیں نہیں سیاسی جماعتوں کو بھی شامل کیا جائے۔۔

شیخ رشید احمد نے کہا کہ ٹی ایل پی کو انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت کالعدم قرار دیا گیا ہے۔ ٹی ایل پی سیاسی جماعت ہے اور 2018 کے انتخابات میں پنجاب کی تیسری بڑی پارٹی تھی، ان کے پاس اپیل کا حق موجود ہے اور وہ 30 روز میں اپنا جواب داخل کرا سکتے ہیں۔

وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ ٹی ایل پی نے کسی کی رہائی کی بات بھی نہیں کی۔ سعد رضوی سمیت 210 افراد ان کے بقول ایف آئی آر اور قانونی مرحلے سے گزریں گے۔

وزیرداخلہ اس سے قبل اپنے ویڈیو بیان میں ٹی ایل پی سے تعلق رکھنے والے افراد کی رہائی سے متعلق بات کررہے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ ٹی ایل پی کے گرفتار تمام کارکنوں کو جلد رہا کردیا جائے گا۔

سیاسی معاملات کو سیکیورٹی معاملات سے الگ رکھنا چاہیے، ماریہ سلطانتجزیہ کار ماریہ سلطان نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی ایشوز کو سیکیورٹی کے معاملات سے الگ رکھنا چاہیے۔ اصول یہ ہونا چاہیے کہ اگر کوئی بھی جماعت چاہے وہ سیاسی ہو یا مذہبی، اگر تشدد اختیار کرے تو اس پر پابندی عائد کردی جائے، لیکن ہمارے ہاں سیاسی جماعتوں کو نہیں چھیڑا جاتا اور مذہبی جماعتوں پر پابندیاں لگتی ہیں۔

ماریہ سلطان نے کہا کہ ٹی ایل پی والے معاملہ میں پہلے بین کرنے کا فیصلہ بھی غلط تھا اور بعد میں ان سے بات چیت اور ان سے پابندی اٹھانے کا فیصلہ بھی غلط ہے۔ 8 سو پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں، کئی جانیں ضائع ہوئی ہیں، کون ذمہ دار ہے؟ انہوں نے کہا کہ ریاست کو ذمہ داری لینا ہوگی۔

ماریہ سلطان کا کہنا تھا کہ اگر آپ جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ جمہوریت کے مطابق تمام فیصلے ہونے چاہیے تو آپ کو پہلے دن ہی یہ معاملہ پارلیمان میں لے آنا چاہیے تھا اور جو بھی فیصلہ پارلیمان دے اس پر عمل درآمد کریں۔ بیشک پارلیمان فرانس کے سفیر کو نکالنے کا فیصلہ کرے تو اسے بھی تسلیم کرتے ہوئے فرانس کے سفیر کو نکالنا چاہیے، لیکن ایسے فیصلے کرنا اور پھر انہیں واپس لینا ریاست کی رٹ پر سوالیہ نشان چھوڑ جاتا ہے۔

وزیرداخلہ شیخ رشید کے مطابق ٹی ایل پی کو انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت کالعدم قرار دیا گیا ہے، ٹی ایل پی سیاسی جماعت ہے اور 2018 کے انتخابات میں پنجاب کی تیسری بڑی پارٹی تھی۔

سیاسی پارٹی تحلیل کیونکر ہوگی؟؟اس بارے میں پلڈاٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعت کو تحلیل کرنے کا طریقہ آئین کا آرٹیکل 17 ہے۔ حکومت اس سلسلہ میں ریفرنس سپریم کورٹ بھیجے اور ڈیکلئیر کردے اور سپریم کورٹ اس بارے میں فیصلہ کرے گی کہ حکومت کی ڈیکلئیریشن درست ہے، اسے کنفرم کردیا جائے گا یا پھر مسترد کردیا جائے گا، ماضی میں نیشنل عوامی پارٹی کو تحلیل کیا جا چکا ہے۔

الیکشن ایکٹ 2017 کے بارے میں احمد بلال نے کہا کہ الیکشن ایکٹ میں دہشت گردی کے الزامات کو شامل کیا گیا تھا اب ان کی مدد سے ریفرنس سپریم کورٹ کو بھیجا جائے گا۔ اس پارٹی سے منسلک ارکان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اگر سپریم کورٹ کی جانب سے تحلیل کیے جانے سے قبل ہی یہ ارکان کسی اور جماعت میں شامل ہوجائیں تو ان کی رکنیت بچ جائے گی، بصورت دیگر جماعت تحلیل ہونے کے بعد ان کی رکنیت بھی ختم ہو جائے گی۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ وزیر داخلہ شیخ رشید نے ریفرنس سپریم کورٹ بھجوانے کا اعلان کیا تھا لیکن اب تک اس اعلان پر عمل درآمد نہیں ہوا۔

ٹی ایل پی پر پابندی واپس کیسے ہوگی؟؟وزیر مملکت محمد علی خان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ٹی ایل پی پر فوری نہیں لیکن ضابطہ کار مکمل ہونے کے بعد پابندی ہٹا دی جائے گی۔ نجی ٹی وی ڈان نیوز پر بات کرتے ہوئے علی محمد خان نے کہا کہ ہمارا اور ٹی ایل پی کا اختلاف طریقہ کار پر ہے وگرنہ ناموس رسالت پر کسی کا کوئی اختلاف نہیں ہے۔ جس انداز میں وہ معاملات کو چلا رہے تھے وہی اختلاف تھا لیکن اب معاملات درست ہو رہے ہیں اور امن وامان قائم ہوگیا ہے۔

لیکن کالعدم قرار دی جانے والی جماعت کو دوبارہ بحال کیسے کیا جاسکتا ہے۔ اس بارے میں وزارت داخلہ کے ایک سابق افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ قانون کے مطابق کسی بھی جماعت کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے لیے مواد ہونا ضروری ہے جس کے بعد حکومت کو اس کا فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ اس کیس میں وزیرداخلہ نے پابندی کا اعلان پہلے کردیا اور سرکولیشن سمری کے ذریعے بعد میں منظوری لی گئی، ان کا کہنا تھا کہ کالعدم قرار دینے کا فیصلہ واپس لینے کے لیے بھی مواد کا ہونا ہی ضروری ہے جس کے مطابق دہشت گردی میں شامل تنظیم نے اب ایسے اقدام کیے ہیں جن کی وجہ سے اب وہ دہشت گردی سے دور ہوگئی ہے اور انہوں نے ریاست کے سامنے سرنڈر کردیا ہے۔ اس بارے میں ایک بار پھر فیصلہ حکومت ہی کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں ماضی میں بھی بعض جماعتوں پر پابندی لگا کر واپس لی جا چکی ہے، حالیہ عرصہ میں جے یو آئی ف کی ذیلی تنظیم انصار الاسلام پر پابندی عائد کی گئی اور ان کا نام بھی لسٹ میں شامل کر لیا گیا لیکن اگلے روز عدالت میں رٹ دائر ہونے پر حکومت نے یہ فیصلہ واپس لے لیا کیونکہ حکومت نے عجلت میں بغیر کسی ثبوت کے ان کے خلاف پابندی عائد کردی تھی اور واپس نہ لینے کی صورت میں حکومت کی سبکی ہونا تھی۔ اس کے علاوہ صوبوں کی اپنے بنائی گئی کئی تنظیموں کو بھی کالعدم قرار دیے جانے کے بعد فیصلہ واپس لیا جاچکا ہے۔

اس بارے میں وزارت داخلہ سب سے اہم جو مختلف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھجوائی جانے والی رپورٹس پر فیصلہ کرتا ہے۔

کسی جماعت پر پابندی کے خلاف اگر عدالتی فیصلہ اس جماعت کے حق میں آئے تو بھی پابندی فوری طور پر ختم کی جاسکتی ہے۔

ٹی ایل پی کے معاملہ میں حکومت کو ڈٹ جانا چاہیے۔ عائشہ صدیقہتجزیہ کار اور مصنفہ عائشہ صدیقہ نے تحریک لبیک اور حکومت کے درمیان معاملات کے حوالے سے کہا کہ ٹی ایل پی کے معاملہ میں حکومت بچپنے سے کام لے رہی ہے، حکومت کو اپوزیشن سے بات کرنی چاہیے، اس معاملہ کو پارلیمنٹ میں لے جانے سے مسئلہ مزید خراب ہوجائے گا۔ حکومت کو فیصلہ سازی سے کام لینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم قوم سے خطاب میں کہہ چکے کہ فرانس کے سفیر کو نہیں نکالا جاسکتا تو اس بیان پر وہ ڈٹ کر قائم رہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کا مسئلہ یہ ہے کہ ایک طرف حکومتیں اور سیاست دان ہیں اور دوسری طرف اسٹیبلشمنٹ ہے اور سب نے مذہب کو استعمال کیا ہے۔

عائشہ صدیقہ کے بقول عوام اب اس بارے میں اتنے جذباتی ہو چکے ہیں کہ اب وہ عقلی باتوں کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ایسے میں انہوں نے خبردار کیا کہ یہ تنظیم مزید ابھرے گی۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More