پاکستان: ڈاکٹرز کو نسخے میں برینڈ کے بجائے فارمولہ لکھنے کی ہدایت، کیا اب دوائیں سستی ملیں گی؟

وائس آف امریکہ اردو  |  Apr 22, 2021

کراچی — 

پاکستان میں ادویات کو رجسٹرڈ کرنے والے ادارے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (ڈریپ) نے صوبائی حکومتوں سے کہا ہے کہ وہ ڈاکٹری نسخوں میں کسی خاص کمپنی کی دوا تجویز کرنے کے بجائے دوا کا سالٹ یا فارمولا لکھنے کی حوصلہ افزائی کریں تاکہ مریضوں کو کم قیمت ادویات میسر آ سکیں۔

ڈریپ کی جانب سے صوبائی حکومتوں کو بھجوائے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ شہریوں کو یہ شکایت تھی کہ بعض ڈاکٹرز مخصوص کمپنیوں کی دوائیں تجویز کرتے ہیں جو مارکیٹ میں مہنگے داموں دستیاب ہیں حالاں کہ اسی فارمولے کے تحت تیار کردہ دیگر دوائیں سستے داموں مل سکتی ہیں۔

خط میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کے عمل سے ملک پر معاشی بوجھ پڑتا ہے اور مریض بھی مہنگے برینڈز کی خریداری پر معاشی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں۔

ڈریپ کے مطابق یہ عمل میڈیکل اور ڈینٹل پریکٹشنرز کے ضابطۂ اخلاق کے بھی خلاف ہے۔

ڈریپ کی فارمیسی سروسز کے ڈائریکٹر عبدالراشد کے نام سے جاری ہونے والے اس ہدایت نامے میں تمام صوبائی حکومتوں اور زیرِ انتظام علاقوں کی انتظامیہ کو کہا گیا ہے کہ اس بارے میں ڈاکٹروں کی جانب سے جینرک پریسکرپشن یعنی دوا کا عام نام (جسے دوا کا فارمولا بھی کہا جاتا ہے) ملک اور مریضوں کے مفاد میں تجویز کرنے کی حوصلہ افزائی کی جائے۔

'ملٹی نیشنل کمپنیوں کی اجارہ داری اور ڈاکٹرز کے ساتھ گٹھ جوڑ کا خاتمہ ہوگا'

ہول سیل کیمسٹ کونسل آف پاکستان کے صدر عاطف حنیف بِلو اس فیصلے کو سراہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ڈاکٹرز کی جانب سے صرف دوا کا فارمولا تجویز کیا جائے تو اس سے ملٹی نیشنل کمپنیوں کی اجارہ داری ختم کی جا سکتی ہے۔

عاطف بلو نے مزید کہا کہ اس عمل سے عوام کو سستی ادویات میسر آئیں گی۔ کیوں کہ ایک ہی فارمولے کی ادویات تیار کرنے والی کئی کمپنیاں ہو سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر معدے کے درد کو دور کرنے کے لیے درکار سالٹ کو تیار کرنے والی ملک میں 50 سے زائد کمپنیاں ہیں۔ لیکن ملٹی نیشنل کمپنی اس دوا کو ساڑھے پانچ سو روپے میں فروخت کرتی ہے جب کہ مقامی کمپنیاں یہی دوا 70 سے 200 روپے تک فروخت کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کی تیار کردہ ادویات میں معیار کا خاص خیال رکھا جاتا ہو گا۔ لیکن ڈریپ جب مقامی کمپنیوں کو بھی دوا کی تیاری کا لائسنس اور منظوری دے رہی ہے تو اس سے پہلے باقاعدہ ڈرگ انسپکٹر فیکٹری وزٹ کرتا ہے۔ اس کی معلومات حاصل کی جاتی ہے اور لیب ٹیسٹ بھی ہوتا ہے تب جاکر اس کی منظوری ہوتی ہے۔

'ڈریپ اپنا کام کرنے کے بجائے دوسرے کاموں میں مشغول ہے'

دوسری جانب پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن اس فیصلے کو وقتی اور حکمت سے عاری قرار دے رہی ہے۔ ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر قیصر سجاد نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ڈاکٹرز کو ریگولیٹ کرنے کا اختیار صرف پاکستان میڈیکل کمیشن کو حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر تھوڑی دیر کے لیے اس نوٹی فکیشن کا مقصد ڈاکٹروں کی کرپشن کی روک تھام ہی کو تصور کرلیا جائے تو بھی اس عمل سے ملک کی گلی گلی میں کھلے میڈیکل اسٹورز کے پاس یہ اختیار آجائے گا کہ وہ کون سی دوا مریض کو فراہم کرتا ہے۔

اُن کے بقول یوں فارما کمپنیوں اور میڈیکل اسٹورز مالکان کے گٹھ جوڑ سے کرپشن اور رشوت ستانی کا نیا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس طرح کمپنیوں کو نوازنے میں چند ایک ڈاکٹرز تو ملوث ہوسکتے ہیں لیکن ڈاکٹرز کی اکثریت ایسا نہیں کرتی۔

ڈاکٹر قیصر سجاد کا بھی کہنا ہے کہ ملک میں ایک ہی قسم کے فارمولے کی دوا تیار کرنے والی مختلف کمپنیوں کا ریٹ یکساں مقرر کرنا ہی اس مسئلے کا حل ہے۔ اس کے بعد بات ہی ختم ہوجاتی ہے۔ نہ ڈاکٹرز کو الزام آسکے گا اور نہ ہی میڈیکل اسٹورز والے اس میں زیادہ منافع کما سکیں گے۔ اور یہی کام ڈریپ کا اصل مینڈیٹ ہے۔

اُن کے بقول ڈریپ اپنا کام ٹھیک طریقے سے کرنہیں پارہا اور دوسری جانب وہ ڈاکٹرز کو ہدایات جاری کرنے کے لیے انتظامیہ کو خطوط لکھ رہا ہے۔

SEE ALSO:پاکستان میں کرونا ویکسین کی 150 فی صد زیادہ قیمت پر فروخت سنجیدہ معاملہ ہے: ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل'اس فیصلے کے تحت ڈریپ کو مفادات کے حصول کے لیے استعمال کیا گیا'

ڈاکٹر قیصر سجاد نے مزید کہا کہ اس طرح کے فیصلوں کا مقصد خاص گروہوں کو فوائد پہنچانا ہوتا ہے۔ ڈاکٹر قیصر سجاد کے مطابق یہ خط جاری کرنے والے ڈریپ کی فارمیسی سروسز کے ڈائریکٹر عبدالراشد پاکستان فارما ایسوسی ایشن کے آئندہ انتخابات میں نائب صدر کے عہدے کے لیے بھی الیکشن لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس نوٹی فکیشن کے ذریعے اتھارٹی کو مفادات کے ٹکراؤ میں استعمال کیا گیا۔

اس معاملے پر مؤقف حاصل کرنے کے لیے ڈریپ کی انتظامیہ اور چیف ایگزیکٹو آفیسر عاصم رؤف سے کئی بار رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تاہم ان کی جانب اب تک سے کوئی جواب موصول نہیں ہو سکا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More