امریکا کی افغانستان واپسی میں شدید خطرات لاحق ہونگے،جنرل مکینزی

سماء نیوز  |  Apr 22, 2021

فائل فوٹو

سینٹ کام کے سربراہ جنرل مکینزی کا کہنا ہے کہ امریکا کو اگر واپس افغانستان آنا پڑا تو اس میں شدید خطرات درپیش ہوسکتے ہیں۔

امریکی قانون سازوں کو بریفنگ دیتے ہوئے امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل فرینک مکینزی کا کہنا تھا کہ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے بعد کسی دہشت گرد واقعے کی صورت میں یا پھر دہشت گردی کے کسی نئے خطرے سے نمٹنے کے لئے واپس لوٹنے میں سنگین مراحل اور خطرات درپیش آسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے یا کسی نئے واقعے سے نمٹنا یا دہشت گردی کے خطرات سے نبرد آزما ہونا ایک آزمائش طلب مرحلہ ہوگا۔

کینتھ فرینک مکینزی کا مزید کہنا تھا کہ میں اس بات کی اہمیت کو گھٹا کر پیش نہیں کرنا چاہتا۔ میں معاملے کو رنگین شیشے چڑھا کر نہیں دیکھ سکتا، اور نہ ہی کہا جاسکتا ہے کہ یہ مرحلہ آسان ہوگا۔ انہوں نے ایوان نمائندگان کی مسلح افواج کی قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ عین ممکن ہے کہ مسقتبل میں انسداد دہشت گردی کے معاملات درپیش آئیں جن کا مقابلہ ناگزیر ہو۔

کمیٹی کو اپنے خدشات سے آگاہ کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ اس ضمن میں ہم اپنے تمام وسائل کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ ضرورت پڑنے پر اس کام کو معقول ترین، خطرات سے پاک طریقہ کار سے انجام دیا جا سکے۔ یہ کام انتہائی دشوار ہوگا۔ اگلے ماہ کے أواخر تک، وفاقی وزیر دفاع لوئیڈ آسٹن کے سامنے اس معاملے کے حل سے متعلق تمام ممکنہ تجاویز پیش کریں گے۔ دیگر اہلکار بھی ممکنہ حل سے متعلق تجاویز پر غور کر رہے ہیں۔

دوسری جانب قائم مقام معاون سکریٹری دفاع، ایمنڈا ڈوری نے قانون سازوں کو بتایا کہ سیکیورٹی صورت حال سے مطابقت پیدا کرتے ہوئے دباؤ رکھنے کیلئے تمام امور کو زیر غور لایا جا رہا ہے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ صدر کی سربراہی میں قومی سلامتی کی ٹیم اپنے فیصلے کرتے وقت افغانستان کے مستقبل کے تمام تناظر پیش نظر رکھے ہوئے ہے۔

واضح رہے کہ مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے علاقوں کی کمان رکھنے والے جنرل مکینزی کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عسکری أمور کی منصوبہ سازی سے متعلق عہدیدار آئندہ ماہ افغانستان سے 2500 سے لیکر 3500 فوجی واپس لانے کا منصوبہ تیار کر رہے ہیں، جس سے دو عشروں پر محیط لڑائی کا خاتمہ ممکن ہوگا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More