کوئٹہ کے سرینا ہوٹل کی پارکنگ میں دھماکہ خودکش حملہ تھا: شیخ رشید

اردو نیوز  |  Apr 22, 2021

پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ بدھ کو کوئٹہ کے سرینا ہوٹل کی پارکنگ میں ہونے والا دھماکہ خود کش حملہ تھا۔

جمعرات کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خودکش دھماکے کے لیے 60 سے80 کلو دھماکہ خیر مواد استعمال ہوا اور خودکش حملہ آور گاڑی میں بیٹھا ہوا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ دھماکے کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے اور 11 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے چھ اس وقت ہسپتال میں زیر اعلاج ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ چین کے سفیر محفوظ ہیں اور آج سٹاف کالج سے خطاب کیا ہے۔

شیخ رشید احمد نے کہا کالعدم تحریک طالبان کی جانب سے حملے کی ذمہ داری کے بارے میں ان کو علم نہیں۔

دھماکہ بدھ کی رات کوئٹہ کے سب سے بڑے تھری سٹار سرینا ہوٹل کی پارکنگ میں ہوا جس سے وہاں کھڑی چار سے پانچ گاڑیوں کو آگ لگ گئی۔‘

ڈپٹی کمشنر کوئٹہ میجر ریٹائرڈ اورنگزیب بادینی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ ’دھماکے میں چار افراد ہلاک جبکہ 12 زخمی ہوئے ہیں۔‘

تاہم رات گئے ایک سکیورٹی گارڈ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ اس طرح دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 5 ہوگئی جبکہ 11 زخمی ہیں۔

دوسری جانب چین نے کوئٹہ بم دھماکے کی ’شدید مذمت‘ کرتے ہوئے اسے ’دہشت گرد‘ حملہ قرار دیا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وینبن نے کہا کہ دھماکے کے وقت چینی وفد ہوٹل میں موجود نہیں تھا۔

دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد میں ہوٹل کا ایک ملازم، دو سکیورٹی گارڈز اور ایک پولیس اہلکار شامل تھے جبکہ ہلاک ہونے والے چوتھے شخص کی شناخت نہیں ہو سکی۔

ایم ایس سول ہسپتال ڈاکٹر ارباب کامران کے مطابق ’زخمیوں میں دو اسسٹنٹ کمشنرز بھی شامل ہیں۔‘

مشیر برائے ماحولیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے اپنی ایک ٹویٹ میں بتایا ہے کہ ’کوئٹہ دھمااکے نے 10 بلین ٹری سونامی منصوبے پر کام کرنے والے بلوچستان کے محکمہ جنگلی حیات کے دو نوجوان افسروں کی  جان لے لی ہے۔خدا ان کی مغفرت فرمائے۔‘

Shocked and speechless - the #Quetta carnage takes the lives of two fine young officers of the #Balochistan #Wildlife dept working for the #10BillionTreeTsunami - may Allah grant them Jannah pic.twitter.com/4qf1YPRm4A

— Malik Amin Aslam (@aminattock) April 21, 2021

صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا لانگو نے کوئٹہ میں میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ ’دھماکہ جس ہوٹل میں ہوا وہاں چینی سفیر ٹھہرے ہوئے تھے تاہم دھماکے کے وقت وہ اپنے وفد کے ہمراہ کوئٹہ چھاؤنی کے اندر کوئٹہ کلب میں موجود تھے۔‘

اس سوال پر کہ دھماکے کا ہدف کیا تھا صوبائی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ’اس حوالے سے ابھی تحقیقات ہو رہی ہیں۔‘

میر ضیا لانگو نے بتایا کہ ’دھماکے کے بعد انہوں نے چینی سفیر سے ملاقات کی ہے، ان کے حوصلے بلند ہیں اور انہوں نے کوئٹہ میں اپنی مصروفیات جاری رکھنے کا کہا ہے۔‘

اس موقع پر ڈی آئی جی کوئٹہ اظہر اکرم کا کہنا تھا کہ ’دھماکہ بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے کیا گیا۔‘

بم ڈسپوزل سکواڈ کے ایک اہلکار نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’دھماکے کے لیے بارود سے بھری گاڑی کا استعمال کیا گیا۔ گاڑی میں 80 سے 90 کلوگرام دھماکہ خیز مواد موجود تھا۔‘

ڈی آئی جی کوئٹہ اظہر اکرم کا کہنا ہے کہ ’دھماکہ بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے کیا گیا‘ (فوٹو: اے ایف پی)بلوچستان پولیس کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ابتدائی شواہد کے مطابق یہ خودکش دھماکہ ہو سکتا ہے ، چونکہ دہشت گرد ہوٹل میں داخل نہیں ہوسکا لہٰذا گاڑی میں موجود حملہ آور نے پارکنگ میں ہی دھماکہ کر دیا۔‘

’بم ڈسپوزل سکواڈ دھماکے کی جگہ سے شواہد اکٹھے کر رہا ہے جس کے بعد ہی حقائق سامنے آئیں گے۔‘

دھماکے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا جبکہ ہلاک اور زخمی ہونے والوں کو سول ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ 

علاقے میں سکیورٹی اداروں کی جانب سے سرچ آپریش بھی شروع کر دیا گیا۔ 

آئی بلوچستان رائے محمد طاہر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’دھماکے سے نقصانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور اس کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’سی ٹی ڈی نے دھماکے کی جگہ کو سیل کر دیا ہے جبکہ دھماکے کی نوعیت کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔‘

دھماکے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے نجی ٹی وی چینل اے آر وائی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’جب دھماکہ ہوا تو اس وقت چینی سفیر ہوٹل میں موجود نہیں تھے بلکہ وہ ہوٹل سے باہر کسی اور تقریب میں موجود تھے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’دھماکے میں پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں، واقعے کی اعلیٰ سطح پر مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔‘

انہوں نے چیف سیکرٹری بلوچستان سے واقعے کی رپورٹ بھی طلب کی ہے۔ ترجمان بلوچستان حکومت لیاقت شاہوانی نے وضاحت کی ہے کہ ’دھماکے کے وقت ہوٹل میں کوئی غیر ملکی وفد موجود نہیں تھا۔‘

ہوٹل کے قریب واقع ایرانی قونصل خانے اور بلوچستان ہائی کورٹ کی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔

دھماکہ اس قدر زور دار تھا کہ اس کی آواز کئی کلومیٹر دور تک سنی گئی۔

صوبائی وزیر داخلہ کے مطابق ’دھماکے کے وقت چینی سفیر ہوٹل میں موجود نہیں تھے‘ (فوٹو: اے ایف پی)دھماکہ کی جگہ سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر واقع منان چوک اور جناح روڈ پر کئی عمارتوں کے شیشے بھی ٹوٹے۔

خیال رہے کہ زرغون روڈ صوبائی دارالحکومت کا اہم علاقہ ہے جہاں ایرانی قونصل خانہ، بلوچستان ہائی کورٹ اور صوبائی اسمبلی سمیت کئی اہم عمارتیں واقع ہیں۔  

سرینا ہوٹل سے چند سو میٹر کے فاصلے پر گورنر ہاؤس اور وزیر اعلٰی ہاؤس واقع ہیں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More