کوئٹہ دھماکے میں چار ہلاکتیں، کالعدم تحریکِ طالبان نے ذمے داری قبول کر لی

وائس آف امریکہ اردو  |  Apr 22, 2021

کوئٹہ — پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں ایک نجی ہوٹل میں بم دھماکے سے ایک پولیس اہلکار اور ایک نجی سیکیورٹی گارڈ سمیت چار افراد ہلاک جب کہ دو اسسٹنٹ کمشنروں سمیت 13 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ زخمی ہونے والوں میں شامل چار کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔

دھماکے کا مقدمہ سی ٹی ڈی تھانے میں درج کر لیا گیا ہے جب کہ کالعدم تحریکِ طالبان نے واقعے کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔

پولیس حکام کے مطابق کوئٹہ میں بلوچستان اسمبلی اور بلوچستان ہائی کورٹ کے نزدیک واقع فائیو اسٹار ہوٹل 'سرینا' کی کار پارکنگ میں بدھ کی شب 10 بجے کے قریب ایک زوردار دھماکہ ہوا۔ دھماکے کی آواز دور دور تک سنائی دی گئی۔

دھماکے کے بعد کار پارکنگ کے احاطے میں آگ بھڑک اٹھی۔ واقعے میں زخمی ہونے والوں کو کوئٹہ کے سول سنڈیمن اسپتال منتقل کیا گیا۔

واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی شناخت اسد اللہ خان، شجاعت عباسی، ایمل کانسی اور شاہ زیب کے ناموں سے ہوئی ہے۔

کوئٹہ سرینا ہوٹل کی کار پارکنگ میں دھماکے کے بعد سول اور بی ایم سی اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

وزیرِ داخلہ بلوچستان ضیاء اللہ لانگو نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فوری طور پر دھماکے کی ذمہ داری کسی گروہ نے قبول نہیں کی لیکن ماضی میں بھی ایسے واقعات میں، ان کے بقول، بھارت کے ملوث ہونے کے شواہد مل چکے ہیں۔

بھارت اس طرح کے الزامات کی تردید کرتا آیا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل بھی بلوچستان کے ضلع گوادر میں مئی 2019 میں ایک نجی ہوٹل پر بلوچ علیحدگی پسند تنظیم کے حملے سے پانچ افراد ہلاک اور چھ زخمی ہو گئے تھے۔

بلوچستان کے پارلیمانی سیکرٹری برائے صحت ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی کے مطابق دھماکے میں زخمی دو اسسٹنٹ کمشنرز اعجاز احمد اور بلال شبیر کو سول سنڈیمن اسپتال کوئٹہ میں طبی امداد کے بعد سی ایم ایچ کوئٹہ منتقل کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر ربابہ کے مطابق آنکھ میں زخم کے باعث ایک زخمی کو ہیلپر آئی اسپتال ریفر کیا گیا ہے۔

سول سنڈیمن اسپتال کوئٹہ میں زیرِ علاج زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔

ادھر وزیرِ اعلی بلوچستان جام کمال خان نے سرینا ہوٹل کی پارکنگ میں ہونے والے دھماکے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے دہشت گردی کے اس افسوس ناک واقعے کی مذمت کی ہے اور واقعے کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

اپنے ایک مذمتی بیان میں وزیرِ اعلیٰ نے ہلاک افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امن و امان کی صورتِ حال خراب کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔

پاکستان کے وزیرِ داخلہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ چینی سفیر دھماکہ کے وقت کوئٹہ شہر میں موجود تھے اور اب بھی کوئٹہ میں ہی ہیں تاہم وہ محفوظ ہیں۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ دھماکے کےبعد کوئٹہ سے ایف سی کی چوکیاں ختم کرنا ممکن نہیں رہا۔ اس سے قبل ہم نے 13 چوکیوں کی کمان پولیس کو دے دی تھی۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More