حکومت نے کالعدم ٹی ایل پی سے مذاکرات کر کے پولیس کو کیسے تنہا چھوڑا؟

بی بی سی اردو  |  Apr 22, 2021

کراچی میں پولیس
Getty Images
پولیس میں حکومت کے رویے کی وجہ سے کافی بے چینی پائی جاتی ہے

18 اپریل کی صبح نو بجکر 25 منٹ پر تھانہ نواں کوٹ لاہورپر اچانک حملہ ہوا تو موقع پر موجود پولیس اہلکاروں کے لیے یہ کسی انہونی سے کم نہ تھا۔

حملہ وفاقی حکومت کی طرف سے دہشتگردی و انتہا پسندی کے الزامات پر کالعدم قرار دی گئی تحریک لبیک کے کارکن کر رہے تھے۔ موقع پر تعینات ڈیوٹی افسر اسسٹنٹ سب انسپکٹر پولیس محمد اقبال مظہر کے مطابق یہ ّڈھائی تین سو افراد تھے جو ڈنڈوں سے لیس ہو کر تھانے میں گھس آئے تھے اور انھوں نے تھانے کے احاطے میں کھڑی موٹرسائیکلوں کو توڑنا شروع کر دیا تھا۔ پھر انھوں نے ایس ایچ او اور ڈی ایس پی پولیس کے دفاتر کا رخ کر کے وہاں توڑ پھوڑ شروع کی۔ جیسے ہی ڈی ایس پی فاروق بلوچ نے انھیں سمجھانے کی کوشش کی تو انھوں نے انھیں تشدد کا نشانہ بنایا اور دیگر پولیس اہلکاروں کے ہمراہ اغوا کر کے ساتھ لے گئے۔

کم و بیش 50 سالہ محمد اقبال کی پولیس میں 31 سالہ سروس کے دوران شاید یہ سب سے ہولناک واقعہ تھا۔ اقبال پندرہ بیس روز قبل ہی اس تھانے میں ٹرانسفر ہوکر آئے تھے کہ وفاقی حکومت کی ہدایت پر 12 اپریل کو تحریک لبیک کے سربراہ سعد رضوی کی گرفتاری عمل میں آئی اور یوں پورے ملک بالخصوص پنجاب میں اس جماعت کی طرف سے پرتشدد احتجاج شروع ہو گیا۔

یہ بھی پڑھیے

کالعدم ٹی ایل پی سے مذاکرات: حکومت کو اپنا رویہ تبدیل کیوں کرنا پڑا؟

لاہور میں اتوار کو ٹی ایل پی اور پولیس کا تصادم، عینی شاہدین نے کیا دیکھا؟

حکومت-ٹی ایل پی مذاکرات: ’ناؤ میں کس نے چھید کیا ہے، سچ بولو‘

حیرت انگیز طورپر احتجاجی مظاہرین پولیس کو ہدفِ تشدد بنا رہے تھے اور اب تک پولیس کےدو جوان بھی ہلاک ہو چکے تھے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پولیس اس سارے معاملے میں ہتھیار پھینکتی مگر معاملہ الٹ تھا۔پولیس آگے بڑھ کر محدود وسائل کے ساتھ کارروائی کر رہی تھی مگر وہ آتشیں اسلحہ استعمال کرنے سے بھی گریزاں تھی۔

ایک روز قبل اسلام آباد میں وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد کی زیرِ صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا تو اس میں خصوصی طورپر پنجاب کے آئی جی نے بریفنگ دی۔ اجلاس میں شریک ایک سرکاری افسر نے اجلاس کی روداد بتاتے ہوئے کہا کہ اس اجلاس میں آئی جی پنجاب پولیس انعام غنی بڑے پر اعتماد تھے۔

انھوں نے اجلاس کے شرکا کو برقی عکسی رابطے پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انھیں وزیر اعظم، آرمی چیف، کور کمانڈر لاہور سمیت تمام اہم شخصیات نے فون کیا ہے۔ انعام غنی نے کہا کہ ’ملکی قیادت ہمارے ساتھ ہے، ہم کسی صورت اس کالعدم جماعت کو نہیں چھوڑیں گے، اس نے ہماری پولیس کے جوان بھی شہید کیے ہیں۔‘

انعام غنی کہہ رہے تھے کہ ’ہم نے پورا پنجاب کلئیر کرا لیا ہے، صرف لاہور میں ایک مقام پر احتجاج کیا جا رہا ہے جسے ہم کلئیر کروا لیں گے۔ اس موقع پر ہمیں کسی قسم کی کمزوری کا مظاہرہ نہیں کرنا، آپ نے پولیس پر اعتماد کیا ہے تو پولیس کارکردگی دکھا رہی ہے۔‘

اس اجلاس کے بعد وزیرِ داخلہ شیخ رشید نے معمول کے مطابق صورتحال کے بارے میں وزیرِ اعظم سیکریٹیریٹ کو آگاہ کیا اور رات ہو گئی۔

اگلے روز 18 اپریل کو کالعدم تحریک لبیک کے کارکنوں نے تھانہ نواں کوٹ لاہور پر حملہ کیا اور ڈی ایس پی فاروق بلوچ سمیت گیارہ کے قریب افراد کو اغوا کر کے اپنے مرکز چوک یتیم خانہ میں منتقل کر دیا۔ اس کی وجہ سے پولیس میں بڑی بے چینی پائی گئی۔

اس کالعدم جماعت کی طرف سے پورے ملک کے 192 مقامات کو بند کیا گیا تھا، جن میں سے صرف ایک مقام یعنی لاہور میں جماعت کے مرکز چوک یتیم خانہ پر احتجاج جاری تھا۔ وزارت داخلہ میں اگلے روز معمول کے مطابق سیکیورٹی جائزے کا اگلا اجلاس ہوا تو، آئی جی نے کہا کہ سر پورا پنجاب کلیئر ہے ہم اس ایک مقام کو بھی کلیئر کر لیں گے، ہمیں وقت دیا جائے۔‘

اس مشورے کے برعکس حکومت کی طرف سے معاملات کو سلجھانے کے لیے کالعدم جماعت کے رہنماؤں سے مذاکرات شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔

لاہور میں مظاہرین
Getty Images
مظاہرین نے لاہور میں بہت توڑ پھوڑ کی اور پولیس والوں کو بھی یرغمال بنا لیا

حکومت اور کالعدم تحریک لبیک کے درمیان مذاکرات کے باقائدہ آغاز کا اعلان 19 اپریل 2021 کو کیا گیا مگر عملی طور پریہ مذاکرات گورنر پنجاب اور صوبائی وزیرِ قانون راجہ بشارت کی سربراہی میں ایک روز قبل یعنی 18 اپریل کو ہی لاہور میں شروع ہو چکے تھے۔

حکومت اور فیصلہ سازوں کو یہ خوف بھی تھا کہ کالعدم جماعت کی طرف سے 20 اپریل کو دی گئی احتجاج کی کال پر عوامی ردعمل آیا تو حکومت کے لیے شرمندگی اٹھانے کے سوا کچھ نہیں بچے گا۔ حکومت پر سوشل میڈیا کے ذریعے بھی تنقید عروج پر تھی اور ان پلیٹ فارمز پر ہلاکتوں کی تعداد کو بھی بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا تھا۔

اسی پس منظر میں ایک طاقتور خفیہ ادارے کے افسر نے 19 اپریل کو وزیرِ اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے ان کے دفتر میں ملاقات کر کے انھیں بتایا کہ وہ صوبائی پولیس و انتظامیہ کو صوبے بھر میں گرفتار کیے گئے کالعدم جماعت کے افراد کی فہرستیں بنانے اور انھیں چھوڑنے کی تیاریاں کریں۔ شاید اس وقت تک ذہنی طورپر کالعدم جماعت کے زیرِ حراست افراد کو مذاکرات کے دوران دھرنا ختم کرنے کے عوض چھوڑنے کو کارڈ کے طور پر استعمال کرنے کی تیاری کر لی گئی تھی۔ سرکاری حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ اس معاملے پر پولیس میں بڑی بیزاری پیدا ہوئی جس کا اظہار انسپکٹر جنرل پولیس انعام غنی کی طرف سے وزیرِ اعظم اور وزیرِ اعلیٰ کے دفاتر میں بھی کیا گیا۔

اب پورے پاکستان بالخصوص شہروں میں امن عامہ کو یقینی بناتے ہوئے پولیس کی نظریں لاہور میں حکومت اور کالعدم تحریک لبیک کے درمیان مذاکرات پر مرکوز تھیں۔ مذاکرات کے لیے لارنس روڈ پر ایک سرکاری دفتر کا انتخاب کیا گیا اور رات دس بجے کا وقت مقرر کر دیا گیا۔

حکومت کی طرف سے ان مذاکرات میں وفاقی وزرا شیخ رشید، نورالحق قادری، وزیراعظم کے معاون علامہ طاہر اشرفی، گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور، صوبائی وزرا راجہ بشارت اور سعد سعید الحسن کے علاوہ طاقتور خفیہ ادارے کے ایک سینیئر افسر اور صوبائی انتظامیہ کے افسران بھی موجود تھے۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات کے لیے کالعدم تحریک لبیک کا چار رکنی وفد ایک گھنٹہ تاخیر سے مذکورہ دفتر پہنچا۔ کالعدم جماعت کی طرف سے مذاکرات میں ڈاکٹر شفیق امینی، علامہ غلام غوث بغدادی اور دیگر شریک تھے۔ تحریک کے رہنماؤں کے چہروں پر مسلسل احتجاج کے باعث تھکن نمایاں تھی۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ حکومت سے مذاکرات کے لیے آنے والے کالعدم جماعت کے تقریباً سارے رہنما لاہور پولیس کو دہشتگردی کے مقدمات میں بھی مطلوب تھے۔

اسلام آباد میں مظاہرہ
Getty Images
تحریکِ لبیک پاکستان کے کارکنوں نے پورے پاکستان میں مظاہرے کیے اور فرانس کے سفیر کو ملک سے نکالنے کا مطالبہ کیا

مذاکرات میں شرکت کرنے والے افراد نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتاتے ہیں کہ کالعدم جماعت کے رہنماؤں نے سنجیدہ چہروں کے ساتھ حکومت کی طرف سے کیے گئے کریک ڈاون کی مذمت کی اور اپنے کارکنوں کی ہلاکتوں کے تناظر میں اسی محفل میں شریک وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد کے استعفے کا مطالبہ کیا۔

ظاہر ہے مذاکرات کا آغاز ایک منفی انداز میں ہو رہا تھا۔ تاہم گورنر پنجاب چوہدری سرور، علامہ طاہر اشرفی اور دیگر نے اس معاملے میں فوری مداخلت کی اور تحریک کے رہنماؤں کو واضح کیا کہ اگر آپ معاملات خراب کرنا چاہتے ہیں تو آپ کی مرضی، ہم تو یہاں مذاکرات کر کے معاملے کو حل کرنے کے لیے بیٹھے ہیں نہ کہ مزید تلخیاں بڑھانے۔ اس پر ماحول میں تلخی کم ہوئی۔

اس حوالے سے وزیرِ اعظم کے معاون طاہر اشرفی نے بی بی سی کو بتایا کہ کہ تحریک کے نمائندوں نے اپنے کارکنوں پر مقدمات ختم کرنے اور ان کی رہائی کی بات کی تو اس پر آئی جی پنجاب انعام غنی نے واضح کیا کہ وہ دہشتگردی اور پولیس اہلکاروں کے اغوا اور تشدد کے مقدمات ختم کریں گے نہ ان مقدمات میں قید کسی بھی شخص کو رہا کریں گے۔

تاہم اجلاس میں نقص امن عامہ یعنی 16 ایم پی او کے تحت گرفتار کیے گئے افراد کی رہائی پر اتفاق کر لیا گیا۔ تحریک کے نمائندوں کو اس حوالے سے آئی جی پنجاب کا رویہ بڑا دو ٹوک لگا لہذا اس معاملے پر مزید لمبی بحث کی بجائے اس پر اتفاق کر لیا گیا۔

اس اجلاس میں حکومت اور تحریک لبیک میں کچھ باتوں پر اتفاق تو ہو گیا مگر ان پولیس والوں کے لواحقین کہیں پیچھے رہ گئے جنھوں نے اس سارے بحران میں امن عامہ کو یقینی بناتے ہوئے اپنی جانیں تک قربان کر دی تھیں۔

سرکاری ذرائع بتاتے ہیں کہ اس وقت تک ملک بھر میں کالعدم تحریک لبیک کے خلاف کل 256 ایف آئی آر ز درج کی گئی ہیں جن میں سے 210 صرف پنجاب میں درج ہیں۔

ان 210 ایف آئی آرز میں کم و بیش 2200 افراد نامزد کیے گئِے ہیں جنھیں پنجاب پولیس کی طرف سے رہا نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تاہم 2300 کے قریب نقص امن عامہ کے الزام کے تحت گرفتار افراد کو رہا کیا جا رہا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین کو ’شہید پیکج‘ اور پنجاب پولیس کے زخمیوں میں 4 کروڑ تقسیم کر رہی ہے۔

یہ سارے اقدامات اپنی جگہ لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے خلاف کارروائی سے قبل پالیسی سازوں کی طرف سے نہ تو پولیس کے اعلیٰ حکام سے مشاورت کی گئی اور نہ ہی انھیں اعتماد میں لیا گیا۔ انھیں حکم دیا گیا جس کی بجا آوری کر دی گئی، تاہم اس سب میں پولیس کو ہی نہیں عام شہریوں کو بھی بہت نقصان اٹھانا پڑا۔

حکومت اور کالعدم تحریک کے درمیان معاہدہ ہو گیا مگر پولیس کی کارکردگی کے باوجود پنجاب سمیت پورے ملک میں پولیس کو مناسب بجٹ، تنخواہوں میں اضافے، تھانے اور تفتیشی افسران تک اصلاحات کے آثار کہیں دور بھی حکومت کی ترجیحات میں شامل نظر نہیں آ رہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More