نیوالنی کی زندگی کو کچھ ہوا تو روس اور پیوٹن کو پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، فرانس کا انتباہ

وائس آف امریکہ اردو  |  Apr 22, 2021

ویب ڈیسک — فرانس نے کہا ہے کہ اگر روس میں حزب اختلاف کے راہنما الیگسی نیوالنی کی موت واقع ہو گئی تو روس اور صدر ولادی میر پیوٹن کو پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔یہ بات فرانس کے وزیر خارجہ ژاں ژیو یودگیاں نے جمعرات کے روز ایک ٹیلی وژن انٹرویو میں کہی۔

فرانسیسی وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ ہم ضروری پابندیاں عائد کریں گے اور اس کے ذمہ دار مسٹر پیوٹن اور روسی حکام ہوں گے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ فرانس کو اس حد تک نہیں جانا پڑے گا۔امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیون نے بھی سی این این کے ساتھ اتوار کو گفتگو کرتے ہوئے اسی طرح کے خیالات کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے متنبہہ کیا تھا کہ نیوالنی کی موت کے نتائج بھگتنا ہوں گے تاہم انہوں نے وضاحت نہیں کی کہ کس طرح کے نتائج کا سامنا روس کو کرنا پڑ سکتا ہے۔روس میں حزب اختلاف کے راہنما نیوالنی کو جنوری میں جرمنی سے وطن واپسی پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔ نیوالنی پانچ ماہ تک جرمنی میں مقیم رہے تھے جہاں ان کا زہریلی، اعصاب شکن گیسوں کا شکار ہونے کے بعد علاج کیا گیا۔ بعد میں وہ صحتیاب ہو کر روس واپس چلے گئے تھے۔ نیوالنی نے زیریلی گیسوں کے ذریعے حملے کا الزام روسی حکومت پر لگایا تھا۔ روس کے حکام ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔حزب اختلاف کے رہنما نیوالنی نے، جو روسی صدر پیوٹن پر متواتر تنقید کرتے آ رہے ہیں، تین ہفتوں سے بھوک ہڑتال کر رکھی ہے اور ان کی صحت مسلسل گر تی جارہی ہے۔

نیوالنی کے حامی اپنے رہنما کی رہائی کے مطالبے کے ساتھ سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں۔پولیس نے 1700 سے زیادہ نیوالنی کے حامی مظاہرین کو بدھ کے روز گرفتار کر لیا تھا یہ لوگ روس کے مختلف شہروں میں مظاہرے کر رہے تھے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More