’ حکومت کے ہاتھوں پر خون ہے‘ آسٹریلیا داخل نہ ہونے والے کرکٹرز برہم

اردو نیوز  |  May 04, 2021

سابق آسٹریلوی کرکٹر مائیکل سلیٹر نے اپنی حکومت کو اس اقدام پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے کہ ’کسی نے انڈیا کے سفر پر پابندی کی خلاف ورزی کی تو اسے جیل جانا پڑے گا۔‘

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مائیکل سلیٹر نے پیر کے روز آسٹریلوی وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ کے ہاتھوں پر خون ہے۔‘

آسٹریلیا نے سنیچر کے روز اعلان کیا تھا کہ انڈیا، جو بری طرح کورونا کی لپیٹ میں ہے، سے اگر کوئی آسٹریلیا آیا تو اسے پانچ سال سلاخوں کے پیچھے گزارنا پڑیں گے۔

آسٹریلیا کی جانب سے یہ دھمکی اس وقت سامنے آئی جب کچھ مسافروں کی جانب سے اِن ڈائریکٹ پروازیں لینے کی کوشش کی گئی۔

 ان میں کرکٹرز ایڈم زمپا اور کین رچرڈسن بھی شامل تھے، جنہوں نے پابندی کی وجہ سے اپنے پریمیئر کلبس چھوڑے۔

سلیٹر آج کل ایک ٹیلی ویژن کے تجزیہ کار کے طور پر جانے جاتے ہیں انہوں نے کیسز کی تعداد بہت زیادہ بڑھنے اور ٹورنامنٹ چھوڑنے سے قبل آئی پی ایل کے لیے کمنٹری بھی کی۔

آسٹریلوی کرکٹر ایڈم زمپا اے پی ایل کی وجہ سے انڈیا میں موجود تھے اور اِن ڈائریکٹ پرواز کے ذریعے آسٹریلیا جانے کی کوشش کی (فوٹو: اے پی)ایک آسٹریلوی اخبار کے مطابق انہوں نے مالدیپ کا سفر کیا وہاں وہ انتظار کر رہے ہیں کہ وہ کب اپنے وطن پہنچیں گے۔

51 سالہ مائیکل سلیٹر نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ’اگر حکومت کو آسٹریلیا میں رہنے والوں کی فکر ہے تو اسے ہم کو جانے دینا چاہیے۔ یہ ذلت ہے، وزیراعظم آپ کے ہاتھوں پر خون لگا ہے۔ آپ کی ہمت کیسے ہوئی ہمارے ساتھ ایسا سلوک کرنے کی۔‘

ناقدین نے آسٹریلوی وزیر اعظم سکاٹ موریسن کی حکومت کو اپنے شہریوں کو بے یارومددگار چھوڑنے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

کین رچرڈسن نے بھی پابندی کی وجہ سے اپنا کلب چھوڑا  (فوٹو: اے ایف پی)موریسن نے ہزاروں شہریوں اور آئی پی ایل کی وجہ سے انڈیا میں موجود کرکٹر کی جانب سے چارٹرڈ طیاروں کی درخواستیں بھی رد کر دی ہیں۔

انڈیا سے کیسز ملک میں نہ آنے دینے کی غرض سے لگائی جانے والی سفری پابندیاں پہلے مرحلے میں 15 مئی تک جاری رہیں گی۔

پیر کو دو کھلاڑیوں کے ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد  پہلی بار آئی پی ایل کا میچ ملتوی کیا گیا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More