سی آئی اے کے صدر دفتر کے باہر گولی لگنے والا شخص ہلاک ہو گیا: ایف بی آئی

وائس آف امریکہ اردو  |  May 04, 2021

ویب ڈیسک — 

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف بی آئی) کا منگل کے روز کہنا تھا کہ اس نے سی آئی اے کے صدر دفتر کے باہر جس مسلح شخص کو پیر کے روز گولی ماری تھی وہ ہلاک ہو گیا ہے۔

ایف بی آئی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پیر کی شام ایف بی آئی کے کم ازکم ایک ایجنٹ نے اس وقت ایک نامعلوم شخص پر گولی چلا دی تھی جب وہ اپنی گاڑی میں سے ایک ہتھیار لے کر باہر نکلا تھا۔ ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ زخمی حملہ آور کو ہسپتال لے جایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گیا۔

ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ وہ اس واقعہ کی چھان بین کر رہی ہے۔

منگل کے روز جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ایف بی آئی فائرنگ کے ہر اس واقعہ کی چھان بین کرتی ہے جس میں اس کا کوئی سپیشل ایجنٹ ملوث ہو۔ اس چھان بین کے دوران اُن حالات کا بڑی احتیاط سے جائزہ لیا جائے گا جن کی وجہ سے فائرنگ تک بات پہنچی، اور جائے وقوعہ سے تمام متعلقہ شواہد اکٹھے کئے جائیں گے۔

تاہم، ایف بی آئی نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

فرانس کے خبر رساں ادارے ایجنسی فرانس پریس (اے ایف پی) کے مطابق، ایف بی آئی نے سی آئی اے کے دفتر میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے شخص کو پیر کے روز گولی مار دی تھی۔

ایف بی آئی کا اپنے بیان میں کہنا ہے کہ سی آئی اے کے دفتر کے داخلی گیٹ پر یہ تعطل کئی گھنٹوں تک جاری رہا۔

امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کے نواح میں واقع سی آئی اے کے دفتر کو جانے والے پہلے گیٹ پر نامعلوم حملہ آور کو روکا گیا تھا۔

سیکیورٹی پر مامور عملے نے مبینہ طور پر کئی گھنٹے تک مذاکرات کے ذریعے یہ کوشش کی کہ حملہ آور ہتھیار ڈال دے۔

قبل ازیں، سی آئی اے کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ادارہ، احاطے سے باہر پیش آنے والی صورتحال سے باخبر ہے۔ سی آئی اے کے دفتر کی مرکزی عمارت داخلی گیٹ سے سینکڑوں میٹر دور ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ہمارا کمپاؤنڈ بالکل محفوظ ہے، اور ادارے کے صرف سیکیورٹی پر مامور عملے کا اس واقعہ سے براہ راست سر و کار تھا۔

حالیہ برسوں میں سی آئی اے کے دفتر کے باہر سیکیورٹی میں اضافہ کیا گیا ہے۔

ایک پاکستانی شہری آمل کانسی نے سن 1993 میں کار میں بیٹھے ایجنسی ملازمین پر فائرنگ کر کے 2 اشخاص کو ہلاک اور 3 کو زخمی کر دیا تھا جب وہ ایجنسی کے کمپاؤنڈ میں داخل ہونے کے لیے ایک لائٹ پر رکے ہوئے تھے۔

اے ایف پی کے مطابق، کانسی بھاگ کر واپس پاکستان چلا گیا تھا جہاں سے 4 سال بعد اسے تلاش کر کے گرفتار کر لیا گیا تھا۔ اسے امریکہ لایا گیا تھا جہاں اس پر قتل کا مقدمہ چلایا گیا اور اسے سزائے موت سنائی گئی تھی، اور سن 2002 میں سزا پر عمل کیا گیا تھا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More