فالج کی خاموش جان لیوا علامات، جاننا سب کےلئے ضروری ہے

بول نیوز  |  May 05, 2021

کہاجاتا ہےکہ فالج دنیا میں اموات کی تیسری بڑی وجہ ہے۔ جب جسم کے کسی حصے کو خون اور آکسیجن کی فراہمی بند ہوجائے تو جسم میں کمزوری سمیت کئی علامات ظاہر ہوجاتی ہیں۔ اس سے جسم کا متأثرہ حصہ کم کام کرتاہے یا بالکل ہی کام کرنا چھوڑ دیتاہے۔

فالج کی ابتدائی علامات

فالج ایسا مرض ہے جس کے دوران دماغ کو نقصان پہنچتا ہے اور جسم کا کوئی حصہ مفلوج ہوجاتا ہے اور مناسب علاج بروقت مل جائے تو اس کے اثرات کو کم از کم کیا جاسکتا ہے تاہم اکثر لوگ اس جان لیوا مرض کی علامات کو دیگر طبی مسائل سمجھ لیتے ہیں اور علاج میں تاخیر ہوجاتی ہے۔

فالج درحقیقت ہارٹ اٹیک کی طرح ہوتا ہے مگر اس میں دل کی جگہ دماغ نشانہ بنتا ہے۔

فالج کے دورے کے بعد ہر گزرتے منٹ میں آپ کا دماغ 19 لاکھ خلیات سے محروم ہو رہا ہوتا ہے اور ایک گھنٹے تک علاج کی سہولت میسر نہ ہونے کی صورت میں دماغی عمر میں ساڑھے تین سال کا اضافہ ہوجاتا ہے۔

علاج ملنے میں جتنی تاخیر ہوگی اتنا ہی بولنے میں مشکلات، یاداشت سے محرومی اور رویے میں تبدیلیوں جیسے مسائل کا خطرہ بڑھ جائے گا۔

فالج کو جتنا جلد پکڑلیا جائے اتنا ہی اس کا علاج زیادہ موثر طریقے سے ہوپاتا ہے اور دماغ کو ہونے والا نقصان اتنا ہی کم ہوتا ہے۔

فالج کی اقسام

فالج کی دو اقسام ہے ایک میں خون کی رگیں بلاک ہوجانے کے نتیجے میں دماغ کو خون کی فراہمی میں کمی ہوتی ہے۔

دوسری قسم ایسی ہوتی ہے جس میں کسی خون کی شریان سے دماغ میں خون خارج ہونے لگتا ہے۔

ان دونوں اقسام کے فالج کی علامات یکساں ہوتی ہیں اور ہر فرد کے لیے ان سے واقفیت ضروری ہے۔

طبی ماہرین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ فالج کی یہ انتباہی نشانیاں مختلف شکلوں میں اصل دورے سے ایک ہفتہ قبل ہی سامنے آنے لگتی ہیں۔

جسم کے ایک حصے کا سن ہوجانا یا چلنا ناممکن ہوجانا۔

بولنے سے قاصر ہوجانا یا باتوں کو سمجھ نہ پانا۔

بہت زیادہ ذہنی الجھن۔

ایک جانب سے چہرے ڈھلک جانا اور مسکرانے کے قابل بھی نہ رہنا۔

شدید سردرد اور قے۔

ایک یا دونوں آنکھوں سے دیکھنے میں مشکل کا سامنا۔

چلنے میں مشکلات کا سامنا۔

کچھ نگلنا مشکل ہوجانا۔

جسمانی توازن برقرار رکھنے میں مشکل۔

جسمانی توازن میں کمی کے باعث چلتے ہوئے لڑکھڑانا یا شدید کمزوری وغیرہ۔

علامات ظاہر ہونے کے بعد کیا کرنا چاہیئے؟

ان علامات کے ظاہر ہوتے ہی اگر فوری طور پر طبی امداد کے لیے رجوع کیا جائے تو آپ اپنی یا کسی اور فرد کی زندگی بچا سکتے ہیں۔

یہ علامات آکر ختم ہوبھی جائیں تو بھی طبی امداد کے لیے ضرور رجوع کرنا چاہیئے۔

 

--> Double Click 970 x 90
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More