فرانس تین سال تک امیگریشن بند کردے، یورپی یونین کے سابق عہدیدار کا مطالبہ

وائس آف امریکہ اردو  |  May 12, 2021

ویب ڈیسک — 

بریگزٹ پر ہونے والے کشیدہ مذاکرات کی سربراہی کرنے والے، یورپی یونین کے سابق چوٹی کے عہدیدار، مشیل بارنی اے کا کہنا ہے کہ آئندہ تین سے پانچ سال کیلئے فرانس کیلئے امیگریشن کو بند ہونا چاہئیے اور شینگن نظام کے تحت رکن ملکوں کے درمیان آزادانہ نقل و حرکت پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔

وائس آف امریکہ کے جیمی ڈیٹمر کے مطابق، مشیل ایک فرانسیسی سیاستدان ہیں اور چند فرانسیسی میڈیا اداروں کے مطابق، وہ آئندہ سال صدارتی انتخابات میں امینوئیل میکخواں کے خلاف کھڑا ہونے کا سوچ رہے ہیں۔ مشیل کا کہنا تھا کہ یورپی یونین میں تارکین وطن کی آمد کام نہیں کر رہی، اور یہ کہ یورپی بلاک کی بیرونی سرحدیں چھلنی بنتی جا رہی ہیں۔

ایک فرانسیسی ٹیلی وژن سٹیشن کو منگل کے روز انٹرویو میں ان کے کہے ہوئے یہ الفاظ، وسطی اور جنوبی یورپ کے قوم پرست اور عوامیت پسند ملکوں میں بہت مقبول ہونگے، جو کہ شینگن نظام کے تحت رکن ملکوں کے درمیان آزادانہ نقل و حرکت کے ناقد ہیں۔ وہ اس بات کو بنیاد بنائیں گے کہ یورپی بلاک کی بیرونی سرحدیں غیر محفوظ ہیں۔

مشیل نے، جو کہ فرانس کے سابق وزیر خارجہ بھی رہے ہیں، کہا ہے کہ میں مسائل کو ویسے ہی دیکھتا ہوں جیسے وہ ہیں اور جس طرح کہ فرانسیسی لوگ ہر روز ان کے ساتھ زندہ ہیں، اور پھر ان کا حل ڈھونڈا جاتا ہے۔ میرے خیال میں ہمیں تین سے پانچ سال کا وقت درکار ہے، جس دوران تارکین وطن کی آمد کو موخر کر دیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ طالب علموں کی بات نہیں کر رہے، نہ ہی مہاجرین کی ، جن کے ساتھ انسانیت اور خوش اسلوبی سے پیش آنے کی ضرورت ہے۔ لیکن ہمیں پورے عمل کی تشکیل نو کرنا ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنے ہمساؤں کے ساتھ شینگن معاہدے پر بات کرنے کی ضرورت ہے، اور یورپ میں ممکنہ طور پر زیادہ سخت سرحدی کنٹرول نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شاید شینگن ضوابط پر دوبارہ سے بات چیت کرنا ضروری ہے اور یورپی باشندوں کیلئے ایک دوسرے کی سرحدوں کے آر پار آنے جانے کے بارے میں نئے ضوابط متعارف کروانے کی ضرورت ہو۔

ہنگری کے وزیر اعظم، وکٹر اوربن جیسے وسطی یورپ کے عوامیت پسند لیڈر طویل عرصے سے شینگن کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ یورپی یونین کی بیرونی سرحدوں کے کھلے پن کی وجہ سے تارکین وطن کی آمد کا بحران پیدا ہوا۔

اوربن سمیت وسطی یورپ کے عوامیت پسندوں نے یورپی یونین کی طرف سے تارکین وطن کے بوجھ کو ملکر برداشت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ تارکینِ وطن زیادہ تر مشرق وسطیٰ اور زیرین صحارا سے تعلق رکھتے ہیں، اور یہ جنوبی یورپ کی ساحلوں سے یورپ میں داخل ہوتے ہیں، جن کا بوجھ اٹھانے سے وسطی یورپ کے ممالک نے انکار کر دیا تھا۔

مشیل نے اپنے انٹرویو میں سکیورٹی خدشات پر بھی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ امیگریشن اور دہشت گرد نیٹ ورکس کے درمیان روابط ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد تارکین وطن کے بہاؤ میں شامل ہو گئے تھے۔ انہوں نے انسانی اسمگلنگ کے بارے میں بھی تشویش کا اظہار کیا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More