بلاول ہاؤس کی بھینسوں پر بحث

سماء نیوز  |  May 18, 2021

بلاول ہاؤس میں ایک بڑی تعداد میں پالی گئی بھینسوں کے حوالے سے سماء ٹی کے پروگرام سات سے آٹھ  میں ایک تفصیلی رپورٹ پیش کی گئی جس پر پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے اظہار خیال کیا۔

پیپلزپارٹی کے تیمورتالپور نے بلاول ہاؤس میں بھینسیں پالنے والی خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی گھر میں جانور رکھنا چاہے تو سندھ حکومت کی جانت سے کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں۔

تیمورتالپور کا کہنا تھا کہ اکثر لوگ گھروں میں کتے بلیاں پالتے ہیں لیکن سمجھ میں نہیں آتا کہ اس معاملے پر اتنی بحث کیوں کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اپنے گھر کے اندر بھینسیں پالنے پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے، اس قسم کی باتیں سیاسی عزائم کے لیے اٹھائی جاتی ہیں اور اس پر بلاول ہاؤس کے پڑوسیوں کو کوئی اعتراض نہیں۔

تیمور تالپور نے کہا کہ کراچی میں لوگوں نے گھروں میں اونٹ اور شیر تک پال رکھے ہیں جبکہ بنی گالا عمران خان کے گھر میں بھی کتے اور بلیاں بلکہ سنا ہے کہ جنات تک پلے ہوئے ہیں۔

تیمور تالپور کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کی جانب سے سے اپنے گھر کی چاردیواری میں جانور پالنے پر کوئی پابندی نہیں تاہم باڑہ بنانے کی اجازت نہیں۔

پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر علی زیدی کا کہنا تھا کہ  اگر قانون بنانے والے اور صوبے کے حکمران جماعت کے سرابراہ اگر قانون توڑے تو باقی لوگوں سے کیا گلہ کیا جاسکتا ہے۔

علی زیدی کا کہنا تھا کہ عزیر بلوچ کے جے آئی ٹی میں لکھا گیا ہے کہ کس طرح بلاول کے ہاؤس کے ارد گرد کے علاقوں کو بلاول ہاؤس میں زبردستی شامل کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بلاول ہاؤس کے سمانے سروس روڈ بھی تاحال بند ہے اگر حکمران  ایسا کریں گے تو عام لوگوں  کو اس سے کیسے روکا جاسکتا ہے۔

اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی دور حکومت میں وزیراعظم ہاؤس میں بھی بھینسیں اور گھوڑے بندھے ہوتے تھے انہوں نے کہا کہ عام آدمی تو گھر میں 20 مرغیاں نہیں پال سکتا۔

رہنما تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ بلاول کا اصل چہرہ سامنے آگیا ہے بلاول بھٹو بظاہر تو ماڈرن اور لبرل ہیں مگر اصل میں وہی وڈیرانہ ذہنیت کے مالک ہیں اور ان کےلیے یہ سب کچھ جائز ہے۔

حلیم عادل شیخ نے بلاول ہاؤس میں پالی گئی بھینسوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ تھر میں لوگوں میں غذائیت کی کمی ہے لیکن ان کے جانور بھی دودھ پیتے ہوں گے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More