برطانیہ: آگ کی انگوٹھی والا جزوی سورج گرہن نہیں، ہلال کا سورج دیکھا گیا

ہم نیوز  |  Jun 11, 2021

لندن: یورپ سے لے کر امریکہ تک جب لوگ شاندار جزوی سورج گرہن کا نظارہ و مشاہدہ کر رہے تھے تو برطانیہ کے لوگوں کو سخت مایوسی کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا کیونکہ وہاں زیادہ تر علاقوں میں بادلوں کا ڈیرہ تھا۔

برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق ملک کے اکثر علاقوں میں لوگوں کا شاندار جزوی سورج گرہن دیکھنے کا خواب چکنا چور ہو گیا۔

عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی ریاست نیوجرسی میں لوگوں نے جزودی سورج گرہن کے دوران چاند کو سمندر کے اوپر تیرتا ہوا دیکھا جب کہ اس دوران چاروں اطراف سرخ روشنیاں بکھری ہوئی تھیں۔

کینیڈا کے باسیوں کو جزوی سورج گرہن کے دوران چاند، سورج اور زمین کے درمیان آتا ہوا دکھا جو نہایت حسین منظر پیش کر رہا تھا۔

دنیا کے کئی علاقوں میں جزوی سورج گرہن کے دوران ایک انگوٹھی کی شکل بھی دکھائی دی جس کے اطراف سے روشنیاں نکل کر بکھر رہی تھیں۔ اس کو کئی علاقوں میں آگ کی انگوٹھی والا سورج بھی کہا گیا ہے جب کہ بعض علاقوں میں چاند الٹا نظر آیا۔

برطانوی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا صارفین کے مطابق لوگوں کو صبح اسی وقت پریشانی نے گھیر لیا تھا جب انہوں نے آسمانوں پہ بادل دیکھے اور بارش کے آثار نظر آئے کیونکہ انہیں خدشات پیدا ہو گئے کہ وہ جزوی سورج گرہن کے نظارے سے لطف اندوز نہیں ہوسکیں گے حالانکہ اس مقصد کے لیے انہوں نے بھرپور تیاریاں کی ہوئی تھیں۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق اسکاٹ لینڈ میں تقریباً 30 فیصد سورج دکھائی دے رہا تھا جب کہ انگلینڈ کے کئی علاقوں میں 20 فیصد سورج نظر آرہا تھا اور کسی جگہ 20 تک بادلوں سے ڈھک گیا تھا لیکن یہ صورتحال صرف برطانیہ ہی میں نہیں تھی کیونکہ امریکہ کی بھی مشرقی ریاستوں میں 70 فیصد سورج دکھائی دینا بند ہو گیا تھا۔

برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق سوشل میڈیا صارفین نے صورتحال پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے گہرے بھورے رنگ کے آسمان کی تاریک تصاویر ہی شیئر کردیں اور ان کے ساتھ طنزیہ تبصرے بھی شامل کیے ہیں۔ صارفین کے لیے یہ بات بھی دکھ کی تھی کہ ان کی نسبت امریکہ، کینیڈا اور ہالینڈ میں لوگ بھرپور طریقے سے دلکش نظارے سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔

چین نے اپنا ’ مصنوعی سورج‘ تیار کر لیا

صارفین کے مطابق موسم اور بادلوں کی وجہ سے اکثر علاقوں میں وہ آگ کی انگوٹھی والے جزوی سورج گرہن کے بجائے ہلال کا سورج دیکھ رہے ہیں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More