جرمنی کا اربوں یورو پر مبنی نیا سائیکلنگ پروگرام

ڈی ڈبلیو اردو  |  Jun 11, 2021

اگر ملک بھر میں ٹریفک کے نظام کو تبدیل نہ کیا گیا تو جرمنی کے لیے ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے قائم کردہ اپنے اہداف کا حصول نہ ممکن ہو جائے گا کیوں کہ کاربن ڈائی آکسائید کے اخراج میں گاڑیوں کا بھی کافی ہاتھ ہے۔  یہی وجہ ہے کہ جرمن حکومت نے اربوں یورو کی سرمایہ کاری کرتے ہوئے نیا سائیکلنگ پروگرام شروع کیا ہے۔

سائیکل چلائیں اور ماحول کو بچائیں

 دارالحکومت برلن میں سائیکلوں کے لیے لگائی گئیں پیلے رنگ کی نئی لائنوں نے کورونا وبا کے دوران بھی زندگی کو متحرک رکھا ہوا ہے۔ حکومتی منصوبے کے تحت سائیکل سواروں کے لیے مزید راستے بنائے گئے ہیں اور سائیکل سواروں کو مزید تحفظ بھی فراہم کیا گیا ہے۔  لیکن برلن کو کاروں سے پاک بنانے کی ماحولیاتی تحریک سے وابستہ نِک کیسٹنر کے مطابق یہ حکومتی اقدامات ابھی بھی ناکافی ہیں۔ وہ پورے کے پورے سٹی سینٹر کو کار فری بنانا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے وہ دستخط حاصل کر رہے ہیں تاکہ ریفرنڈم کروایا جا سکے۔

ان کا ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ''ہم ایک ایسا برلن چاہتے ہیں، جو محفوظ ہو، صحت مند ہو، زیادہ ماحول دوست ہو اور جہاں سب کو بہتر معیار زندگی میسر ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ نجی کار ٹریفک کم ہو۔ پیدل چلنے یا سائیکل سواری کے مواقع زیادہ ہوں۔ باغ، کیفیز اور کھیل کے میدان زیادہ ہوں تاکہ لطف اٹھایا جا سکے۔‘‘

نِک کیسٹنر کا مقصد حکومت کو رائے شماری پر مجبور کرنے کے لئے خاطر خواہ دستخط جمع کرنا ہیں۔ اگر مطلوبہ دستخط جمع ہو جاتے ہیں تو برلن کے رہائشی آئندہ ستمبر میں وفاقی انتخابات کے ساتھ ساتھ سٹی سینٹر میں کاروں پر پابندی کے حوالے سے بھی ووٹ ڈال سکیں گے۔

شہری انتظامیہ کے اقدامات

برلن کی شہری انتظامیہ نے حال ہی میں یہاں کاروں کے لیے پارکنگ کی 300 جگہیں ختم کر دی ہیں جبکہ گرین پارٹی کی سینیٹر برائے ٹرانسپورٹ ریگینے گوئنتھر برلن کے 'موبیلٹی انقلاب‘ کو مزید آگے بڑھانا چاہتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا، ''پہلے ہم خدمات اور سہولیات میں نمایاں اضافہ کریں گے۔ بہتر پبلک ٹرانسپورٹ، سائیکلنگ کے لیے بہتر انفراسٹرکچر، یہاں تک کہ پیدل چلنے والوں کے لیے بھی مزید سہولیات پیدا کریں گے۔ اس کے بعد ہم کار پارکنگ فیسوں میں اضافہ کر دیں گے۔‘‘

ان کے مطابق مستقبل قریب میں برلن کے سٹی سینٹر کو مضافاتی علاقوں سے ملانے کے لیے ایک سو کلومیٹر کے تیز رفتار سائیکل ٹریک بنائے جائیں گے۔

شیئرنگ اسٹریٹیجی

موبیلٹی ریسرچر آندریاس نی کے پاس نہ تو کار ہے اور نہ ہی سائیکل۔ وہ اپنے موبائل فون سے ہی ٹرین ٹکٹ خریدتے ہیں یا پھر ایک ایپ کے ذریعے جگہ جگہ کرایے پر دستیاب سائیکل بُک کر لیتے ہیں۔ وہ شیئرنگ اسٹریٹیجی کے بڑے حامی ہیں۔ ان کے مطابق اسی طرح سے کاروں کو کم کیا جا سکتا ہے۔  ان کا کہنا تھا، ''اب مستقل ایک جگہ پر کام یا ملازمت کرنے کا رجحان کم ہوتا جا رہا ہے۔ بہت جلد ہم ایک دوسرے کے ساتھ کار شیئر کرنا سیکھ جائیں گے، یہاں تک کہ دیہی علاقوں میں بھی۔ ایک کار میں تنہا سفر کرنا بیوقوفی ہے۔ اگر پانچ لوگ ایک ہی سمت میں ایک ہی وقت میں پانچ کاریں ڈرائیو کر رہے ہیں تو اس سے بہتر ہے کہ پانچ لوگ ایک کار میں سفر کریں۔ اس کا حل ڈیجیٹل پلیٹ فارم اور کار شیئرنگ ہے۔ اس طرح آپ کاروں کی تعداد کم کر سکتے ہیں، یہاں تک کہ دیہی علاقوں میں بھی۔‘‘

فی الحال یہ واضح نہیں کہ مستقبل میں آمدو رفت کونسی شکل اختیار کرے گی لیکن ایک چیز بہت واضح ہے کہ کاروں سے پرہیز کرنے اور سائیکلوں سے محبت کرنے کا سفر شروع ہو چکا ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More