ڈیفنس،کلفٹن اس سال بارشوں میں نہیں ڈوبیں گے،سی بی سی

سماء نیوز  |  Jun 11, 2021

کنٹونمنٹ بورڈ کلفٹن نے دعویٰ کیا ہے کہ سی بی سی نے مون سون بارشوں کے دوران سیلابی صورتحال سے نمٹنے اور ڈی ایچ اے کے رہائشیوں کو گزشتہ سال جیسی بدترین صورتحال سے بچانے کیلئے تمام تر انتظامات مکمل کرلئے۔

کنٹونمنٹ بورڈ کلفٹن انتظامیہ آئندہ مون سون موسم میں بارشوں سے متعلقہ مسائل سے نمٹنے کیلئے بھاری مشینری بشمول اینٹی کلوگنگ پمپ، سب مرسیبل پمپ، انجنوں سے چلنے والے پمپ، پیٹرول ڈیزل انجن ٹرالی ماؤنٹڈ پمپ، ڈی واٹرنگ پمپ اور ونچنگ مشینیں حاصل کرلی ہیں۔

کنٹونمنٹ بورڈ کلفٹن کی جانب سے خریدی گئی یہ تمام نئی مشینری ڈی ایچ اے فیز 4 میں گزری قبرستان کے قریب سی بی سی ٹیکنیکل ورکشاپ پہنچادی گئی ہے۔

سی بی سی کے ڈپٹی چیف آفیسر ڈاکٹر رضوان نے میڈیا بریفنگ کے دوران مشینری ملنے پر انتہائی پراعتماد نظر آئے اور کہا کہ سی بی سی کے علاقوں میں برساتی پانی کی نکاسی ایک چیلنج ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس چیلنج کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہیں، آئندہ بارشوں سے متعلق مسائل سے نمٹنے کیلئے اقدامات اٹھائے جاچکے ہیں۔

ڈاکٹر رضوان کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال خطے میں ماحولیاتی تبدیلی کے باعث غیرمتوقع بارشیں آفت کی طرح تھی، سمندر میں مون سون کے دوران اونچی لہروں کے باعث قریبی علاقے ڈوب گئے۔

بارش سے متعلقہ مسائل سے نمٹنے کیلئے مشینری کی خریداری پر 10 کروڑ روپے خرچ کئے جارہے ہیں۔

سی بی سی کے ٹیکنیکل ورکشاپ انچارج عمران خان کا کہنا ہے کہ ٹیمیں ڈی ایچ اے فیز 4، خیابان سحر، فیس 6 اور بخاری کمرشل کے علاقوں میں نشاندہی کئے گئے چوکنگ پوائنٹس کی صفائی کیلئے کام کررہی ہیں۔

گزشتہ سال ان علاقوں میں سیوریج سسٹم بھر جانے کے باعث بارش کا پانی جمع ہوگیا تھا۔ عمران خان نے مزید بتایا کہ سی بی سی انتظامیہ نے ڈی ایچ اے میں بارش کے پانی کو داخل ہونے سے روکنے کیلئے دو مقامات پر 8 ریگولیٹر گیٹ نصب کئے ہیں، ان میں 5 ریگولیٹر گیٹ سی ویو پر میک ڈونلڈ سے چنکی منکی (فن لینڈ) کی لائن میں نصب کئے گئے ہیں جبکہ تین گیٹ محمود آباد کے قریب کے پی ٹی پل سے ڈی ایچ اے کی جانب لگائے گئے ہیں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More