جنوبی پختونخوا صوبے کا مطالبہ بھی سامنے آگیا

سماء نیوز  |  Jun 11, 2021

جنوبی پنجاب کے بعد خیبرپختونخوا کے جنوبی اضلاع کی محرومیاں دور کرنے کے لیے بھی جنوبی پختونخوا کے نام سے الگ انتظامی یونٹ بنانے کا مطالبہ سامنے آگیا۔

تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر دوست محمد خان محسود کا کہنا ہے کہ جنوبی پنجاب کی طرح جنوبی پختونخوا کے لیے بھی الگ سیکریٹریٹ قائم کیا جائے تاکہ جنوبی اضلاع کی محرومیاں ختم ہوجائیں۔

سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی کی اجلاس میں سینیٹر دوست محمد خان محسود نے خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع کے لیے ساؤتھ پنجاب کی طرح الگ بلاک یعنی الگ سیکرٹریٹ، الگ بجٹ و الگ ایڈیشنل چیف سیکرٹری جوکہ اس کو کنٹرول کریں گے کا مطالبہ کردیا ۔

 سینیٹر دوست محمد خان محسود کا کہنا تھا کہ جنوبی اضلاع کو مسلسل نظر انداز کیا گیا ہیں اور ان اضلاع کے ساتھ تخت پشاور کا رویہ غیرمنصفانہ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وقت کی اشد ضرورت ہے کہ ان اضلاع کا الگ بلاک بنا کر جنوبی پنجاب کی طرح علیحدہ سیکرٹریٹ، بجٹ و مانیٹرنگ نظام جو کہ اس بلاک کے لیے متعین کردہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری کے ماتحت ہو بنایا جائے تاکہ جنوبی اضلاع کے عوام تک بھی برابری کا ریلیف پہنچ سکے۔

سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر دوست محمد خان محسود کا کہنا تھا کہ صوبے کے لیے سب سے زیادہ ریونیو جنوبی اضلاع ہی جنریٹ کررہے ہے۔

دوست محمد محسود کا مزید کہنا تھا کہ صرف گیس اور آئل کا ریونیو ہمارے صوبے کے مرکزی خزانے میں ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے۔ اتنا ریونیو جنریٹ کرنے کے باوجود تخت پشاور نے ان اضلاع کو مسلسل محروم رکھا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان پسماندہ اضلاع کو الگ حثیت دینا وقت کی ضروت ہے تاکہ یہ لوگ بھی ملکی ترقی میں کردار ادا کرسکیں۔

رہنما تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ جنوبی اور شمالی وزیرستان کے اکثر علاقے سوات اور مری سے کم خوبصورت نہیں ہیں مگر ان علاقوں میں انفرااسٹرکچر نہ ہونے کے باعث سیاحت نہ ہونے کے برابر ہے۔

دوست محمد محسود کا کہنا تھا کہ جنوبی اضلاع میں بیشتر زرخیز زمینیں آبپاشی نظام نہ ہونے کے باعث بنجر ہیں یہاں چھوٹے چھوٹے ڈیمز بنانے کی ضرورت ہے تاکہ بنجرزمینوں کو زیر کاشت لایا جاسکے۔

سینیٹر دوست محمد خان کا کہنا تھا کہ میں نے پارٹی کے اندر بھی اس حوالے سے بات کی ہے اور ان اضلاع سے تعلق رکھنے والے تمام پارٹیوں کے اراکین اسمبلی سے بھی اس حوالے سے بات کروں گا۔

خیبرپختونخوا کے جنوب میں کون سے اضلاع شامل ہیں؟

خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں کوہاٹ، کرک، بنوں، ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، کرم ،شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان، اورکزئی ایجنسی، ہنگو اور لکی مروت شامل ہیں۔

کیا جنوبی اضلاع میں اس قسم کی سوچ یا مطالبہ موجود ہے؟

تیل اور گیس سے مالا مال ضلع کرک کے عوام کوبھی پانی، گیس اور بجلی کی شدید قلت کا سامنا ہے کرک سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن عمرخٹک نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ جنوبی پختونخوا کے الگ انتظامی یونٹ کا مطالبہ تو ابھی تک صحیح طریقے سے عوام تک پہنچا نہیں ہے اس لیے عوام میں بظاہر اس قسم کی سوچ فی الوقت تو کرک میں موجود نہیں۔

عمرخٹک کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ جنوبی اضلاع صوبے کے باقی اضلاع سے ترقی میں کافی پیچھے رہ گئے ہیں جس کے لیے ہنگامی اقدامات کی ضرورت بہرحال موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت بھی کرک کے بہت سارے علاقے اس شدید گرمی میں بجلی سے محروم ہیں جبکہ جہاں بجلی ہے وہاں بھی لوگوں کو شدید لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہے۔

عمرخٹک کا کہنا تھا کہ گیس کے ذخائر ہونے کے باوجود بھی کرک کا 50 فیصد حصہ گیس سے محروم ہے جبکہ جہاں گیس کنکشن ہیں وہاں بھی پریشر نہ ہونے کے برابر ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی اضلاع میں پینے اور روزمرہ استعمال کے پانی کی شدید قلت ہے اور انہی بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی کے باعث جب کرک جیسے انتظامی علاقے کے عوام میں احساس محرومی موجود ہے تو پھر نئے ضم شدہ اضلاع کے عوام کی طرف سے یہ مطالبہ تو بالکل بھی زمین حقائق کے برعکس نہیں ہے۔

نئے صوبے بنانے یا اس کی حدود میں ردوبدل کا طریقہ کار

آئین میں ترمیم کا اختیار تو پارلیمنٹ کو حاصل ہے لیکن کسی صوبے کی حدود کے بارے میں رد و بدل کا اختیار پارلیمنٹ کو بھی حاصل نہیں۔

آئین پاکستان کے مطابق جب تک متعلقہ صوبے کی اسمبلی دو تہائی اکثریت سے اپنے صوبے کی حدود میں ردو بدل نہ کرے تب تک نیا صوبہ نہیں بن سکتا۔

آئین کے آرٹیکل 239 کی ذیلی شق 4 نئے صوبے بنانے یا کسی صوبے کی حدود کی از سر نو تشکیل کے بارے میں رہنمائی کرتی ہے۔

اس شق میں دیے گئے طریقہ کار کے مطابق متعلقہ صوبے کی اسمبلی کے اراکین کی کل تعداد کی دو تہائی اکثریت اگر صوبے کی حدود میں ردو بدل کے حق میں ووٹ ڈالے تو پھر پارلیمان آئینی ترمیمی بل منظور کرکے صدر مملکت کو پیش کر سکتا ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More