باجی راؤ مستانی، پدماوتی: ایشوریہ کے کردار دیپکا کے پاس کیسے گئے؟

اردو نیوز  |  Jun 14, 2021

کیا آپ کو معلوم ہے کہ فلم باجی راؤ مستانی کے لیے سنجے لیلا بھنسالی کی پہلی پسند دیپکا پاڈوکون کے بجائے ایشوریہ رائے تھیں تاہم ایشوریہ رائے کچھ کاسٹنگ ایشوز کی وجہ سے کردار نہیں کر پائیں۔

ہندوستان ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق سنجے لیلا بھنسالی اور ایشوریہ رائے ایک ساتھ ’ہم دل دے چکے صنم اور دیوداس جیسی سپرہٹ فلمیں دے چکے ہیں۔ انہوں نے فلم گزارش بھی کی جو ان کی پچھلی فلموں جتنی کامیاب نہ ہو سکی۔

 آپ کو یہ بھی بتاتے چلیں کہ ایشوریہ رائے باجی راؤ مستانی اور پدماوتی کے لیے سنجے لیلا بھنسالی کی پہلی پسند تھیں۔

تاہم بعدازاں ان دونوں فلموں میں دیپکا پاڈوکون اور رنویر سنگھ نے کام کیا اور باکس آفس پر یہ فلمیں ہٹ ہو گئی۔

ایشوریہ رائے نے ان فلموں کے حوالے سے ’سپاٹ بوائے‘ سے گفتگو بھی کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ کردار نبھانے کے لیے تیار تھیں تو اس وقت ہدایت کار نے انہیں باجی راؤ اور خلجی کے کرداروں کے لیے پرفیکٹ نہیں پایا۔

پدماوتی اور باجی راؤ مستانی دونوں فلموں میں دیپکا پاڈوکون کے ساتھ رنویر سنگھ نے کیا (فوٹو: ٹوئٹر، رنویز سنگھ)  ایشوریہ رائے کا کہنا تھا کہ ’وہ چاہتے تھے کہ میں پدماوتی میں کام کروں، لیکن کاسٹنگ کے وقت وہ میرے لیے خلجی نہیں ڈھونڈ سکے، اس وجہ سے یہ نہیں ہو سکا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’بہرحال آخرکار آپ کو کاسٹنگ دیکھنا ہی ہوتی ہے، اگر کاسٹنگ نہیں ہوتی تو کبھی کبھی اکٹھے کام نہیں ہوتا۔ ہمیشہ سے خواہش رہی ہے کہ اکٹھے کام کریں لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ہم دونوں کو ایک ساتھ کام کرنا پسند ہے، دیکھتے ہیں ایسا کب ہوتا ہے۔‘

سنجے لیلا بھنسالی کی خواہش تھی کہ ان کی دونوں فلموں میں ایشوریہ رائے کام کریں (فوٹو: بالی وڈ ہنگامہ)2014 میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ سنجے لیلا بھنسالی نے باجی راؤ کے کردار کے لیے اجے دیوگن سے رابطہ کیا۔ اس حوالے سے اجے دیوگن نے ایک انڈین اخبار کو بتایا تھا کہ ’مرکزی کردار کے لیے میرے ساتھ رابطہ کیا گیا تھا تاہم ڈیٹس، پیسوں اور دوسرے معاملات پر اتفاق نہیں ہو سکا۔‘

’گزارش‘ کے بعد سے ابھی تک ایشوریہ اور سنجے لیلا بھنسالی کسی پراجیکٹ میں اکٹھے نہیں ہوئے ہیں جبکہ اجے دیوگن اور سنجے لیلا بھنسالی آنے والی ایک فلم ’گنگوبائی کاٹھیاوادی‘ میں ایک ساتھ کام کر رہے ہیں، جس میں عالیہ بھٹ مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More