بلوچستان اسمبلی کے باہر اپوزیشن جماعتوں اور پولیس میں تصادم

اردو نیوز  |  Jun 18, 2021

کوئٹہ میں بجٹ اجلاس کے موقع پر حزب اختلاف کی جماعتوں اور پولیس کے درمیان تصادم کے باعث بلوچستان اسمبلی کا احاطہ میدان جنگ بن گیا۔ بلوچستان اسمبلی کے باہر جمعے کو پتھراؤ اور ہنگامہ آرائی کے دوران متعدد افراد زخمی ہوگئے۔

پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا اور حکومتی ارکان کو اسمبلی میں داخل کرانے کے لیے اسمبلی کے عقبی گیٹ کو بکتربند گاڑی کی مدد سے توڑ دیا۔

جمعیت علماء اسلام، بلوچستان نیشنل پارٹی اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی پر مشتمل متحدہ حزب اختلاف بجٹ میں نظر انداز کیے جانے کے خلاف گذشتہ تین دنوں سے اسمبلی کی عمارت کے باہر دھرنا دے کر بیٹھی ہوئی تھی۔ اپوزیشن اراکین نے اعلان کیا تھا کہ بلوچستان حکومت کو بجٹ پیش کرنے نہیں دیا جائے گا۔

تاہم اس وقت بلوچستان کے صوبائی وزیر خزانہ ظہور بلیدی بجٹ پیش کر رہے ہیں۔

پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے اسمبلی کی طرف جانے والے تمام راستوں کو کنٹینر اور رکاوٹیں کھڑی کر کے بند کر دیا تھا جبکہ عمارت کے باہر اور اندر دو ہزار سے زائد اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا۔

پولیس کی بھاری نفری کے باوجود اپوزیشن ارکان اپنی جماعتوں کے سینکڑوں کارکنوں کے ہمراہ زبردستی اسمبلی کی عمارت کے احاطے میں داخل ہوگئے اس دوران پولیس اور ارکان اسمبلی کے درمیان تلخ کلامی اور دھکم پیل بھی ہوئی۔ 

عمارت کے اندر داخل ہونے کے بعد مظاہرین نے وزیراعلیٰ، وزرا اور حکومتی ارکان کو بجٹ اجلاس میں شرکت سے روکنے کے لیے اسمبلی کے دروازوں کو تالے لگا دیے۔

پولیس جب دروازوں کو کھولنے میں ناکام ہوئی تو اسمبلی کے عقبی گیٹ کو بکتر بند گاڑی کی مدد سے توڑ دیا اور اس کے بعد سینکڑوں پولیس اہلکاروں کے حصار میں وزیراعلیٰ جام کمال اور حکومتی ارکان اسمبلی میں داخل ہوئے۔ اس دوران مظاہرین نے وزیراعلیٰ کی جانب جوتے بھی پھینکے۔

بلوچستان اسمبلی کی حزب اختلاف کی جماعتوں کا مؤقف ہے کہ گذشتہ تین سالوں سے ان کے حلقوں کو ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز نہیں دیے جا رہے۔ فنڈز صرف حکومتی ارکان کے حلقوں میں خرچ کیے جا رہے ہیں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More