ہنزہ: سیاحوں کا رقص آرگنائزرز کو مہنگا پڑگیا

سماء نیوز  |  Jun 18, 2021

ہنزہ میں موسیقی اور رقص کے پروگرام کے انعقاد پر تحصیل انتظامیہ نے تقریب کے منتظمین کے خلاف فحاشی پھیلانے کے الزام میں مقدمہ درج کرلیا۔پولیس کے مطابق تھانہ گلمت میں 16 جون کو ایک علاقائی تنظیم نوجوانان ہنزہ کی جانب سے ایک درخواست دی گئی جس میں شکایت کی گئی کہ 12 جون سے 15 جون کو ہنزہ کے علاقے پھسو گوجال میں ایک پروگرام منعقدہ کیا گیا تھا جس میں ملک بھر سے سیاحوں کو لایا گیا تھا۔درخواست میں دعویٰ کیا گیا کہ منعقدہ پروگرام میں نوجوان لڑکے لڑکیوں نے نشے میں دھت ہوکر رقص کیا جبکہ خواتین کے لباس بھی نیم عریاں تھے جو ہنزہ کی روایات کے برعکس اور ایک انتہائی غیر اخلاقی حرکت تھی۔مدعیوں کی جانب سے یہ الزام بھی لگا یا گیا ہے اس قسم کے پروگرام کے انعقاد کا مقصد ہنزہ کی ثقافت کو بدنام کرنا تھا جس سے علاقے کے افراد شدید ذہنی اور معاشرتی دباؤ کا شکار ہیں۔درخواست میں کہا گیا کہ اگر نامزد شخص فرحان بھٹی اور ان کے ساتھیوں کے خلاف کارروائی نہ کی گئی تو یہ آئندہ بھی ہنزہ کا ماحول خراب کرتے رہیں گے۔پولیس نے مذکورہ تحریری درخواست پر پروگرام کے منتظمین کے خلاف دفعہ 294/34 کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔ مذکورہ دفعہ کے تحت جرم ثابت ہونے پر ایک سال قید، ایک لاکھ روپے جرمانہ یا دوںوں سزائیں ہوسکتی ہے۔دریں اثناء ڈپٹی کمشنر ہنزہ آفس سے جاری ہونے والے اعلامیہ میں کہا گیا کہ رات کے اوقات میں اونچی آواز میں موسیقی کے پروگرامز کا انعقاد ایک معمول بنتا جا رہا ہے جس پر علاقہ مکینوں کو سخت اعتراض ہوتا ہے اور اس حوالے سے ان کی جانب سے شکایات بھی موصول ہوتی رہتی ہیں۔اس صورتحال کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ نے ضلع بھر میں رقص موسیقی اور اور کلچر پروگروموں پر تاحکم ثانی پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا۔ڈپٹی کمشنر کے اعلامیہ کے مطابق سوشل میڈیا پر مذکورہ پروگرام سے منسوب ویڈیو سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایسی تقاریب علاقائی رسم ورواج سے مطابقت نہیں رکھتیں لہٰذا منتظمین کے خلاف قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔

سوشل میڈیا پر عوام کا ردعمل

مقدمہ کے اندراج پر سوشل میڈیا پر لوگ ملے جلے خیالات کا اظہار کررہے ہیں تاہم اکثریت لوگ اسے ہنزہ میں سیاحت کے حوصلہ شکنی کا اقدام سمجھ رہے ہیں۔ہنزہ سے تعلق رکھنے والے ایک سوشل میڈیا صارف حاجت علی نے ضلعی انتظامیہ کے فیصلے کو ہنزہ سے سیاحوں کو بدظن کرنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے لکھا کہ ضلعی انتظامیہ کو فحش اور شائستہ رقص میں فرق معلوم نہیں اور بجائے فحش پروگرامات اور منشیات کے روک تھام کے انہوں نے ہرقسم کے پروگرامات پر پابندی لگادی۔فیاض علی نے لکھا کہ سرکاری سرپرستی میں سہولت کاروں نے اپنا مقصد حاصل کرلیا اور اب عوام کے کلچر پروگراموں پر پابندی لگادی گئی۔آیاز مہدی نے لکھا کہ ایک مقدمہ مسئلے کا حل نہیں ہے اس کے لیے باقاعدہ قانون سازی کی ضرورت ہے تاکہ آئندہ کے لیے سیاح اور عوام دونوں کسی پریشانی سے بچ سکیں۔ہنزہ کے رہائشی علی شیر خان نے لکھا کہ موسیقی ہمیشہ سے ہنزہ کی ثقافت کا حصہ رہی ہے آپ موسیقی اور ثقافتی پروگرام کو فحاشی کا نام دے کر ایسی تقاریب پر پابندی کیسے لگا سکتے ہیں۔نعمان شاہد نے انتظامیہ کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی غیراخلاقی اور غیرقانونی سرگرمیاں علاقے کے مفاد میں نہیں ہیں۔

صوبائی حکومت کا مؤقف

وزیرسیاحت گلگت بلتستان راجا ناصر علی خان نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ صوبائی حکومت کی پہلی ترجیح علاقے میں سیاحوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنا ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ علاقائی رسم ورواج کا احترام سیاحوں کی ذمہ داری ہے۔راجا ناصر علی خان کا کہنا تھا کہ جس پروگرام پر اعتراض کیا جارہا ہے اس میں ملکی قوانین اور علاقائی کلچر کی خلاف ورزی ہوئی جس پر مقامی حلقوں کی جانب سے ناراضگی کا اظہار کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ مقدمہ کسی سیاح کے خلاف نہیں بلکہ پروگرام کے منتظمین کے خلاف درج کیا گیا ہے اور مقدمے سے سیاحوں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More