کراچی: جان پلازہ میں انجینئرنگ ورک تاحال شروع نہیں ہوسکا

سماء نیوز  |  Jun 23, 2021

کراچی کی رہائشی بلڈنگ جان پلازہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کے ڈائریکٹر جنرل شمس الدین سومرو کے حالیہ اقدام کی وجہ سے ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئی۔

ڈائریکٹر جنرل ایس بی سی اے نے ڈسٹرکٹ سینٹرل کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کمال احمد کو شوکاز نوٹس جاری کردیا، جنہوں نے عمارت کی یوٹیلٹی سروسز (بجلی، پانی و گیس) منقطع کرنے کی اپیل کی تھی۔ 19 مئی کو ایک نوٹس جاری کیا جس میں اسسٹنٹ کمشنر نے کے الیکٹرک، کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ اور ایس ایس جی سی سے کنیکشن منقطع کرنے کی درخواست کی تھی کیونکہ ایس بی سی اے کی ٹیکنیکل کمیٹی نے جان پلازہ کو خطرناک بلڈنگ قرار دیا تھا۔

ڈائریکٹر جنرل ایس بی سی اے نے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کو شوکاز نوٹس کیوں جاری کیا؟

جان پلازہ کے رہائشیوں نے عمارت منہدم کرنے سے روکنے کیلئے نومبر 2020ء میں سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کرکے اسٹے آرڈر لے لیا تھا۔

ایس بی سی اے ڈائریکٹر جنرل نے شوکاز نوٹس میں مؤقف تھا کہ سندھ ہائیکورٹ کا حکم امتناع بدستور قائم ہے، اسسٹنٹ ڈائریکٹر قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جان پلازہ کو نوٹس جاری کیا، جس سے رہائشیوں میں بے چینی پھیل گئی۔

شوکاز نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر کا اقدام خلاف ضابطہ اور نااہلی کے زمرے میں آتا ہے اور ان کیخلاف ایس بی سی اے (ای اینڈ ڈی) ریگولیشنز 2016ء کے تحت کارروائی کیلئے کافی بنیاد فراہم کرتا ہے۔

شوکاز نوٹس میں اسسٹنٹ کمشنر کو اپنی پوزیشن واضح کرنے کیلئے 7 یوم کی مہلت دی گئی ہے۔

تاہم اسسٹنٹ کمشنر کمال احمد کچھ اور ہی کہانی سنارہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ نوٹس سینٹرل ڈسٹرکٹ ڈائریکٹر محمد رقیب کی ہدایت پر جاری کیا گیا تھا۔

ایس بی سی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ وہ پہلے سے ہی معطل ہیں اور ڈی جی نے انہیں شوکاز نوٹس جاری کردیا ہے۔

کمال احمد کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہیں نارتھ ناظم آباد نمبر 3 میں تعینات کیا گیا تھا جب ڈائریکٹر ضلع وسطی نے مجھے جان پلازہ کو شوکاز نوٹس جاری کرنے کا کہا جو نارتھ ناظم آباد نمبر 2 میں آتا ہے۔ اس کی وجہ ڈپٹی ڈائریکٹر جمیلہ جبین کی حالیہ دنوں میں ریٹائرمنٹ ہے اور اسٹاپ گیپ ارینجمنٹ کے طور پر میں نے سینٹرل ڈائریکٹر کی ہدایت پر خطرناک عمارتوں کو نوٹس جاری کئے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ مجھے سینٹرل ڈائریکٹر کی جانب سے خطرناک عمارتوں کی ایک فہرست دی گئی اور مون سون بارشوں سے قبل ان سب کو نوٹس جاری کرنے کا کہا گیا۔

جان پلازہ کی کہانی

کراچی کا جان پلازہ نارتھ ناظم آباد بلاک کا ایک رہائشی منصوبہ ہے۔

گزشتہ سال مون سون بارشوں کے بعد اس کے مختلف بلاکس کے پلروں میں کریکس پڑتے ہوئے نظر آئے۔ رہائشیوں نے اپنی مدد آپ کے تحت اس کا مرمتی کام شروع کرایا لیکن ضلع وسطی انتظامیہ نے عمارت کے دورے کے بعد ایس بی سی اے کی ٹیکنیکل ٹیم کو بلڈنگ کے انسپکشن اور اس کی حالت جانچنے کا کہا۔

ایس بی سی اے نارتھ ناظم آباد ٹاؤن نے رہائشیوں کو عمارت خالی کرنے کے نوٹس جاری کئے لیکن ساتھ ہی کہا گیا کہ انہیں ایس بی سی اے کی اے کیٹیگری کی فہرست میں شامل انجینئرنگ فرم سے مرمت کام کرانے کا حق ہے۔

اکتوبر 2020ء میں عمارت کے رہائشیوں نے انجینئر محمد کامل دہلوی کی فرم کی خدمات حاصل کیں، جس نے کام شروع کرنے کیلئے اس منصوبے کے ڈیزائن کیلئے درخواست دی۔

مکینوں کا کہنا ہے کہ ایس بی سی اے نے انہیں عدالت سے رجوع کرنے اور حکم امتناع حاصل کرنے پر مجبور کیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اتھارٹی نے منصوبے کی دستاویزات فراہم کرنے میں ہمارے ساتھ تعاون نہیں کیا۔

ایس بی سی اے افسران نے انہیں بتایا کہ ان کے پاس اس منصوبے کے ساختی نقشے نہیں کیونکہ یہ ایک 35 سال پرانا منصوبہ ہے۔ مکینوں نے الزام لگایا کہ ایس بی سی اے کا سوچا سمجھا منصوبہ ہے کہ وہ ہمیں اپنے گھروں سے بے دخل کرے۔

نقشوں کے بغیر کیٹیگری اے کی منظور شدہ انجینئرنگ فرم پلازہ میں کام کرنے کو تیار نہیں ہوگی۔

مکینوں نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ وہ انجینئرنگ کا کام شروع نہیں کرسکے، کیوں کہ ایس بی سی اے کی جانب سے ابھی تک اس منصوبے کی ساختی ڈرائنگ فراہم نہیں کی گئی۔

مکینوں کا کہنا تھا کہ مختلف لوگوں کی جانب سے انہیں ایس بی سی اے حکام کے ساتھ یہ مسئلہ بیس سے 20 لاکھ روپے کی رشوت کے بدلے حل کرانے کی پیشکشیں مل رہی ہیں۔

کئی مڈل مین یہ پیش کش کررہے ہیں کہ وہ اس معاملے کو ایس بی سی اے کے ساتھ حل کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہیں اور اتھارٹی عمارت کو ”او کے“ اسٹیٹس دے دے گی۔

رہائشیوں نے مزید کہا ہم اسٹرکچر کی بہتری پر رقم خرچ کرنے کیلئے تیار ہیں، لیکن اپنا پیسہ ضائع کرنے کیلئے نہیں ہیں۔

عمارت اب بھی پچھلے سال کی طرح اپنی پرانی حالت میں ہے کیونکہ ایس بی سی اے حکام رہائشیوں کو اسٹرکچرل ڈیزائن فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ یہ صورتحال مکینوں کو عدالت جانے اور حکم امتناع حاصل کرنے پر مجبور کرتی ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More