فلم ’بلیک وڈو‘ ویک اینڈ پر امریکہ میں آٹھ کروڑ ڈالرز کما کر سرِفہرست

وائس آف امریکہ اردو  |  Jul 12, 2021

ویب ڈیسک — 

امریکی میڈیا فرنچائز مارول سنیمیٹک یونی ورس کی سپر ہیرو ایڈونچر فلم ’بلیک وڈو‘ نے ہالی وڈ کی مقبول ترین فرنچائز ’فاسٹ اینڈ فیوریس 9‘ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

فلم ’بلیک وڈو‘ کو نو جولائی کو امریکہ بھر کے سنیما گھروں میں ریلیز کیا گیا تھا جب کہ فلم کا ورلڈ پریمیئر 29 جون کو ہوا تھا۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق فلم ’بلیک وڈو‘ نے اوپننگ ویک اینڈ پر مقامی سطح پر آٹھ کروڑ ڈالرز کا بزنس کیا ہے۔

’بلیک وڈو‘ کو بیک وقت تھیٹرز اور آن لائن اسٹریمنگ پلیٹ فارم ڈزنی پلس پر بھی ریلیز کیا گیا تھا۔

سائنس اور فکشن سے بھرپور فلم ’بلیک وڈو‘ کی کہانی روسی ایجنٹس کی جاسوسی کے گرد گھومتی ہے۔

فلم میں ’بلیک وڈو‘ کا کردار امریکی اداکار اسکارلٹ جانسن نے نبھایا ہے جب کہ اس کی کاسٹ میں امریکی اداکار ڈیوڈ ہاربر، فلورنس پیو، رے ونسٹون اور دیگر اداکار شامل ہیں۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی کمپنی ڈزنی نے اتوار کو جاری بیان میں کہا کہ بلیک وڈو نے عالمی سطح پر تھیٹرز سے سات کروڑ 80 لاکھ جب کہ آن لائن اسٹریمنگ پلیٹ فارم ڈزنی پلس پر چھ کروڑ ڈالرز کا بزنس کیا ہے۔

SEE ALSO:کرونا وبا کے دوران ’فاسٹ اینڈ فیوریس 9‘ کا امریکی باکس آفس پر ریکارڈ بزنس

فلم ’بلیک وڈو‘ سے قبل ریلیز ہونے والی ہالی وڈ کی مقبول ترین فرنچائز ’فاسٹ اینڈ فیوریس 9‘ نے اوپننگ ویک اینڈ پر سات کروڑ ڈالرز کا بزنس کیا تھا۔

ڈزنی کی جانب سے اتوار کو جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’بلیک وڈو کی شاندار پرفارمنس ہماری ڈسٹری بیوشن کی بہترین حکمتِ عملی کا مظہر ہے۔

فلموں کی مشاورتی فرم ’فرنچائز انٹرٹینمنٹ ریسرچ‘ چلانے والے ڈیوڈ اے گروس کا کہنا ہے کہ فلموں کے کاروبار میں تبدیلی اور برے وقت کے بعد ’بلیک وڈو‘ کی کارکردگی ہالی وڈ اور فلم کی نمائش کرنے والوں کے لیے حوصلہ افزا ہے۔

واضح رہے کہ اس وقت باکس آفس پر پہلے نمبر پر فلم ’بلیک وڈو‘ ہے جس نے گزشتہ ویک اینڈ پر آٹھ کروڑ ڈالرز کا بزنس کیا۔ اس کے بعد دوسرے نمبر پر فلم ’فاسٹ اینٹ فیوریس 9‘ ہے جس نے ویک اینڈ ایک کروڑ نو لاکھ ڈالرز کا بزنس کیا ہے۔

باکس آفس پر تیسرا نمبر کامیڈی فلم ’بوس بے بی: فیملی بزنس‘ کا ہے جس نے گزشتہ ویک اینڈ پر 87 لاکھ ڈالرز کا بزنس کیا ہے۔

اس خبر میں چند معلومات ’رائٹرز‘ اور ’اے پی‘ سے لی گئی ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More