ہانگ کانگ کا بحری جہاز کراچی کے ساحل پر ریت میں پھنس گیا

وائس آف امریکہ اردو  |  Jul 22, 2021

کراچی — 

کراچی کے سی ویو ساحل کے قریب پھنسے ہانگ کانگ کے کارگو جہاز کو کئی گھنٹے گزر جانے کے باوجود بھی نہیں نکالا جا سکا۔ حکام کے مطابق کراچی پورٹ پر لنگر انداز جہاز تیز ہواؤں کے باعث ریت میں دھنس گیا تھا جسے نکالنے کے لیے مزید تین سے چار روز لگ سکتے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ ہانگ کانگ سے کراچی آنے والا کارگو بحری جہاز تیز ہواؤں کے باعث اینکر ٹوٹنے کے بعد ریت میں دھنس گیا تھا۔ ایم وی ہینگ ٹونگ 77 کارگو جہاز کراچی پورٹ کے بیرونی حصے میں لنگر انداز تھا اور کراچی میں صرف عملے کی تبدیلی کے لیے آیا تھا اور اس لیے یہ جہاز بندرگاہ کے کسی چینل میں داخل نہیں ہوا۔

تاہم عملے کی تبدیلی کے بعد انتہائی اونچی سمندری لہروں کی وجہ سے یہ ساحل کے قریب آ کر پھنس گیا۔ اس دوران جہاز کا کمزور انجن بھی اسے دھنسنے سے نہ بچا سکا۔

کراچی پورٹ ٹرسٹ کے ترجمان شارق احمد نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اب تک اس دھنسے ہوئے جہاز کو ریت سے نکالنے کے لیے کام شروع نہیں ہوا ہے۔

پھنسے ہوئے جہاز کو نکالنا جہاز ران کمپنی کا کام ہے اور اس کام کے لیے انہیں کسی نجی کمپنی کی خدمات حاصل کرنا پڑیں گی جسے یہاں تک پہنچنے کے لیے تین سے چار روز لگ سکتے ہیں۔ اس کے لیے وسائل بروئے کار لانے اور یہاں پہنچنے میں مزید تین سے چار روز لگ سکتے۔ لیکن سالویج جہاز کے یہاں پہنچنے کے بعد زیادہ وقت نہیں لگے گا۔

شارق احمد کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے جو بھی پیش رفت ہوگی اس میں بین الاقوامی میری ٹائم قوانین کو ملحوظِ خاطر رکھنا ضروری ہے۔ کیونکہ اس کے بغیر کوئی کام نہیں ہو سکتا۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ 2257 ٹن بحری کارگو جہاز پانامہ میں رجسٹرڈ ہے اور یہ 11 سال پرانا جہاز ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کے پاس ریت میں دھنسے جہاز کو نکالنے کے لیے پشر ٹگز دستیاب نہیں ہیں۔

ادھر کے پی ٹی حکام کے مطابق میرین پالیوشن اسٹاف بھی صورتِ حال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ اس جہاز سے کسی بھی قسم کے آبی اور ماحولیاتی نقصان کی ذمے داری ملکیتی کمپنی ہی کی ہو گی۔ تاہم حکام کے مطابق جہاز کے معائنے میں ایسا کوئی مادہ نہیں پایا گیا جس سے سمندر کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو۔ ریت میں دھنسا ہوا دیوہیکل کارگو شپ کراچی سی ویو سے بھی نظر آ رہا ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More