ارمچی نمبر تین: چین میں ایغور آبادی کے لئے بنائے گئے سب سے بڑے 'اصلاحی' مرکز میں کیا ہوتا ہے؟

وائس آف امریکہ اردو  |  Jul 22, 2021

ویب ڈیسک — 

چین کا سب سے بڑا حراستی مرکز ویٹی کن سٹی سے دو گنا بڑا ہے۔ اور اس میں کم از کم دس ہزار لوگوں کو حراست میں رکھنے کے لئے کمرے بنائے گئے ہیں۔ ارمچی نمبر 3 نامی یہ حراستی مرکز صوبے سنکیانگ کے مغرب میں دبان چینگ نامی علاقے میں واقع ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹد پریس کے مطابق، اس کی ٹیم کو اس مرکز کے اندر جانے کی خصوصی اجازت دی گئی۔

اس مرکز میں زیرِ حراست ایغور لوگوں کو یونیفارم میں زانو طے کئے، نمبر لگے ہوئے، کمر سیدھی رکھے، قطار اندر قطار بیٹھے دیکھا جا سکتا ہے۔ جبکہ ٹیلی ویژن پر بلیک اینڈ وہائٹ پروگرام میں چین کی کمیونسٹ پارٹی کی تاریخ بیان کی جارہی ہے۔

ارمچی کا نمبر3 مرکز، حراستی کیمپ سے مقدمے کی سماعت تک کے دوران کی حراستی تنصیب بن گیا ہے، جو بظاہر ایغور اور زیادہ تر مسلم اقلیتوں کو ایک مستقل قانونی جیل میں رکھنے کا جواز فراہم کرتا ہے۔

220 ایکڑ رقبے پر پھیلے اس مرکز میں 240 کے قریب سیل بنائے گئے ہیں اور یہ ملک کا سب سے بڑا حراستی مرکز ہے۔

چین نے صوبے سنکیانگ سے تعلق رکھنے والے ایغوروں کی ایک معمولی تعداد کو چاقو زنی اور اور بم دھماکوں کے واقعات میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کی بنا پر 'انتہا پسند' قرار دیا تھا اور 'دہشت گردی کے خلاف جنگ' کے نام پر گذشتہ چار برسوں کے دوران دس لاکھ یا اس سے بھی زیادہ اقلیتی باشندوں کو حراست میں لیا ہے۔

ایڈوب فلیش پلیئر حاصل کیجئےEmbedshareایغور مسلمانوں کے خلاف چین کی مہم میں مسلم ممالک بھی 'معاون'EmbedshareThe code has been copied to your clipboard.widthpxheightpxفیس بک پر شیئر کیجئیے ٹوئٹر پر شیئر کیجئیے The URL has been copied to your clipboardNo media source currently available

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More