تاجروں کا کم از کم اجرت بڑھائے جانے پر اعتراض

سماء نیوز  |  Jul 30, 2021

فوٹو : آن لائن

سندھ میں مقیم تاجر حکومتِ سندھ کی جانب سے کم از کم اجرت 17 ہزار 500 روپے سے بڑھا کر 25 ہزار روپے کرنے کے فیصلے پر پریشان ہیں۔

تاجروں کے مطابق ملازموں کو کم از کم اجرت 25 ہزار روپے دینے سے اُن کے کاروبار کے اخراجات بڑھ جائیں گے کیونکہ کم از کم اجرت میں اضاافے کے بعد  انہیں ملازموں کو زیادہ تنخواہ دینی پڑے گی۔ متعدد صنعتوں کے تاجروں نے سندھ حکومت کے کم سے کم اجرت میں 43 فیصد اضافے کے فیصلے پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

 فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) اور کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) سمیت ایک درجن سے زائد تجارتی اداروں نے مشترکہ بیان  میں کم از کم اجرت بڑھائے جانے کے فیصلے پر ناراضگی کا اظہار کیا۔

 دوسری جانب جوائنٹ ڈائریکٹر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیبر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ، ذوالفقار شاہ کے مطابق ملازمین کی کم سے کم تنخواہ 25 ہزار روپے کی بجائے 40 ہزار روپے ہونی چاہیے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں مہنگائی میں اضافہ ہورہا ہے لہذا کوئی سمجھدار شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ 25 ہزار روپے ماہانہ اجرت زیادہ ہے۔

 تجارتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ حکومتِ سندھ نے کم از کم اجرت 25 ہزار روپے ماہانہ مقرر کرکے دوسرے صوبوں میں مقرر کی جانے والی کم ازکم تنخواہ کے مقابلے میں تفریق پیدا کردی ہے۔

تجارتی اداروں کی جانب سے یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ گیس، بجلی، پیٹرول اور ڈیزل جیسے ضام مال کی قیمتیں پورے پاکستان میں یکساں ہیں جبکہ اجرتیں ہر صوبے میں مختلف ہیں اور اس تفریق کے ساتھ صنعتیں کاروبار کیسے کرسکتی ہیں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More