افغانستان میں اقوام متحدہ کے دفتر پر ’حکومت مخالف عناصر‘ کا حملہ، گارڈ ہلاک

اردو نیوز  |  Jul 31, 2021

افغانستان میں اقوام متحدہ کے ایک دفتر پر حملے میں ایک سکیورٹی گارڈ کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اقوام متحدہ کے مشن نے کہا ہے کہ افغانستان کے مغربی صوبے ہرات کے مرکزی شہر میں ’حکومت مخالف عناصر‘ نے ان کے کمپاؤنڈ پر حملہ کیا جس میں کم از کم ایک سکیورٹی گارڈ کی ہلاکت ہوئی ہے۔

روئٹرز کے مطابق حکام نے کہا کہ ہرات میں اقوام متحدہ کے دفتر پر راکٹ کے ذریعے گرنیڈ پھینکے گئے اور فائرنگ بھی کی گئی۔

 

حکام کے مطابق یہ حملہ طالبان جنگجوؤں کے شہر میں داخل ہونے کے کچھ گھنٹے  بعد کیا گیا۔ ہرات میں اقوام متحدہ کے دفتر کے قریب افغان سکیورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان شدید لڑائی ہوئی ہے۔

افغانستان سے امریکی افواج کے مکمل انخلا کے دوران افغان سکیورٹی فورسز طالبان جنگجوؤں کو تین بڑے صوبوں کے مرکزی شہروں پر قبضے سے روکنے کے لیے برسرپیکار ہیں۔

حملے کے بعد اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ عالمی ادارہ متعلقہ فریقین سے رابطے میں ہے اور فوری طور واقعے کی مکمل تفصیلات کے حصول کی کوشش میں ہے۔

فوری طور پر یہ واضح نہ ہو سکا کہ اقوام متحدہ کے کمپاؤنڈ پر حملہ کس نے کیا تاہم ایک مغربی سکیورٹی اہلکار نے روئٹرز کو بتایا ہے کہ ہرات شہر میں تمام غیر ملکی ڈپلومیٹک کمپاؤنڈز کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر جیک سلیوان نے ایک بیان میں افغانستان میں تشدد میں کمی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ’امریکہ ہرات میں اقوام متحدہ کے کمپاؤنڈ پر حملے کی سخت مذمت کرتا ہے۔‘

حکام کے مطابق ہرات میں اقوام متحدہ کے دفتر پر راکٹ کے ذریعے گرنیڈ پھینکے گئے۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)ہرات میں افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کے مشن نے کہا ہے کہ کمپاؤنڈ پر شناخت کے لیے عالمی ادارے کے واضح نشانات لگائے گئے ہیں۔

افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے خصوصی نمائندے ڈیبورا لیونز نے کہا ہے کہ ’اقوام متحدہ کے دفتر پر حملہ افسوسناک ہے جس کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔‘

طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے حملے کے بعد کہا کہ ’ممکن ہے گارڈ دو طرفہ فائرنگ کی زد میں آ گیا ہو کیونکہ اقوام متحدہ کے دفتر کے قریب لڑائی جاری تھی۔‘

ان کے مطابق طالبان جنجگو ’واقعے کی جگہ‘ پر پہنچے اور اقوام متحدہ کے کمپاؤنڈ کو ’کسی قسم کا خطرہ نہیں‘ ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More