کے ٹو پر لاپتا ہونے والے علی سدپارہ اور ساتھی کوہ پیما کے فون اور کیمرہ مل گیا

اردو نیوز  |  Jul 31, 2021

موسم سرما میں کے ٹو سر کرنے کی کوشش کے دوران ہلاک ہونے والے پاکستان کے عالمی شہرت یافتہ کوہ پیما علی سدپارہ کے بیٹے ساجد علی سدپارہ نے اپنے والد کی موت کی وجوہات جاننے کے لیے کے ٹو پر جانے کا اعلان کیا تھا۔

کوہ پیما علی سدپارہ کے بیٹے نے بتایا تھا کہ ’تینوں کوہ پیماؤں کی لاشیں دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے بوٹل نیک کے قریب سے ملی ہیں جن کو نیچے لانا مشکل کام تھا اور آرمی ایوی ایشن کی مدد سے لاشوں کو نیچے لایا گیا۔

اس مشن میں ان کے ساتھ جانے والے امریکی فلم ساز ایلیا سیکلی نے ٹوئٹر پر جان سنوری اور علی سدپارہ کے فون اور گو پرو کیمرہ مل جانے کی اطلاع دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ’کے ٹو مشن کے دوران علی سدپارہ کا فون اور جان سنوری کا زیر استعمال کیمرہ (گو پرو) مل گیا ہے ساجد علی سدپارہ ان سے ملنے والی ویڈیوز اور مواد کی جانچ کریں گے۔‘

کیا ہمیں اس میں سمٹ مکمل کرنے کے حوالے سے کچھ مل پائے گا؟

John Snorri’s Inreach, GoPro and mobile phone recovered from K2. Sajid Sadpara will be carefully examining the content of each device this morning.

Will we find evidence of a winter summit?#JohnSnorri #AliSadpara #JPMohr #SajidSadpara #K2 #Didtheysummit #K2TheCalling pic.twitter.com/1Rp1yIBPJr

— Elia Saikaly (@EliaSaikaly) July 31, 2021

ٹوئٹر صارفین کی جانب سے کوہ پیماؤں کی لاشوں کے بعد ان کے زیر استعمال آلات ملنے کے بعد خوشی کا اظہار کیا جارہا ہے۔

ٹوئٹر صارف رخسانہ مظہر نے لکھا کہ ’کوئی شک نہیں کہ آپ کے حوصلے  کے ٹو پہاڑ سے بھی زیادہ بلند ہیں، مجھے یقین ہے کہ آپ کے تمام سوالات کے جوابات جلد ہی مل جائیں گے کیونکہ ہمت سے آگے بڑھنے والوں کا ساتھ قسمت بھی دیتی ہے۔‘

جہاں صارفین نے اس کامیابی پر ساجد علی سدپارہ اور ٹیم کو مبارک باد دی وہیں اکثر نے ’یہ آلات پاکستان کے حوالے کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔‘

سکردہ کا علاقہ سدپارہ پاکستان میں بہترین ’پورٹرز‘ کے لیے جانا جاتا ہے لیکن علی سدپارہ نے کوہ پیمائی کو کیریئر بناتے ہوئے 2004 میں پہلی بار کے ٹو سر کرنے کی مہم میں بطور کوہ پیما حصہ لیا تھا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More