نوواک ڈوکووچ: ’ یو ایس اوپن کے لیے اپنی فٹنس کے بارے میں یقین نہیں‘

اردو نیوز  |  Aug 01, 2021

ٹینس کی عالمی درجہ بندی میں پہلے نمبر پر براجمان نوواک ڈوکووچ نے کہا کہ وہ کندھے کی چوٹ کے ساتھ ٹوکیو اولمپکس مکسڈ ڈبلز میں کانسی کے تمغے کے میچ سے دستبردار ہونے کے بعد یو ایس اوپن کے لیے اپنی فٹنس کے بارے میں یقین نہیں رکھتے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق 34 سالہ سرب کھلاڑی 1969 میں راڈ لیور کے بعد کیلنڈر گرینڈ سلیم مکمل کرنے والے پہلا شخص بن سکتے ہیں جب 30 اگست کو یو ایس اوپن شروع ہو گا۔

نوواک ڈوکووچ ٹوکیو اولمپکس کے سنگلز مقابلوں میں کانسی کے تمغے کے میچ میں پابلو کیرینو بوستا سے 6-4، 6-7 (6/8)، 6-3 سے سکور سے غیر متوقع شکست کھا کر اولمپکس سے باہر ہو گئے۔  

انہوں نے اعتراف کیا کہ جاپان میں ان کی کوششوں نے اثر دکھایا ہے لیکن وہ اب بھی امید کرتا ہوں کہ وہ فلشنگ میڈوز میں چیلنج کرنے کے لیے کافی فٹ ہوں گے۔

ڈوکووچ نے کہا کہ ’امید ہے کہ یو ایس اوپن کے نتائج جسمانی طور پر میرے لیے کوئی مسئلہ پیدا نہیں کریں گے لیکن یہ وہ چیز ہے جس کے بارے میں مجھے ابھی یقین نہیں ہے۔‘

ڈوکووچ جمعے کو سنگلز اور مکسڈ ڈبلز سیمی فائنل کھیلتے ہوئے سونے کے دو تمغوں پر نظریں جمائے ہوئے تھے لیکن سونے کے  تمغے کے لیے اپنی امیدیں ختم ہونے کے 24 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں وہ کسی تمغے کے بغیر اریکے ٹینس پارک چھوڑنے کی تیاری کر رہے تھے۔

وہ کیرینو بوستا سے پانچ میچ پوائنٹس بچانے کے باوجود ایک سخت میچ ہار گئے جو دو گھنٹے 47 منٹ تک دم گھٹنے والی گرمی میں جاری رہا۔

اولمپکس میں سربیا کے سپورٹنگ آئیکون کا بہترین نتیجہ 2008 میں بیجنگ میں کانسی کا تمغہ ہے۔

ڈوکووچ نے کہا کہ ’میں نے کل اور آج ڈیلیور نہیں کیا ہے۔ تھکن کی وجہ سے ذہنی اور جسمانی طور پر ٹینس کی سطح گر گئی۔‘

ڈوکووچ  کے لیے اولمپک ٹائٹل جیتنے کا اگلا موقع تین سال کے عرصے میں پیرس میں آئے گا جب وہ 37 سال کے ہو جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ’ جانتا ہوں کہ میں واپس آؤں گا۔ میں کوشش کروں گا کہ پیرس اولمپک کھیل کو جاری رکھوں اور اپنے ملک کے لیے تمغے جیتنے کی جنگ لڑوں۔‘

میچ ہارنے کے بعد ڈوکووچ کا کہنا تھا کہ ’مجھے افسوس ہے کہ میں نے اپنے ملک میں کھیلوں کے بہت سے شائقین کو مایوس کیا لیکن یہ کھیل ہے۔میں نے اپنی پوری کوشش کی تاہم میں کامیاب نہ ہو سکا۔ ‘

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More