اولمپکس مقابلے: بیلاروس کی اولمپک کھلاڑی کو پولینڈ سے پناہ کی درخواست کیوں کرنی پڑی؟  

وائس آف امریکہ اردو  |  Aug 05, 2021

ویب ڈیسک — بیلاروس کی سپرنٹر کرسٹینا تسمانوسکایا نے گوگل ٹرانسلیٹر کی مدد سے زبردستی ملک بلائے جانے کی کوشش ناکام بنا دی۔

سپرنٹر کرسٹینا تسمانوسکایا نے کھیل میں ناکامی کے بعد سوشل میڈیا پر اپنے کوچ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں اس مقابلے کا حصہ بنایا گیا جس کے لئے انہیں تیاری نہیں کروائی گئی تھی۔ کرسٹینا کے مطابق، پوسٹ کے بعد انہیں سپورٹس حکام نے فوری اپنا سامان باندھنے کا کہا اور ملک واپسی کے لئے زبردستی ایئرپورٹ لے گئے۔

کرسٹینا نے بیلاروس میں ایتھلیٹس کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک این جی او، سپورٹس سولیڈیریٹی فاؤنڈیشن سے رابطہ کیا، جس نے ان سے وعدہ کیا کہ اگر وہ ملک واپس لوٹیں تو ان کی مدد کی جاسکتی ہے۔

ملک واپسی کے لئے ایئرپورٹ پر ان کا اپنی دادی سے فون پر مختصر رابطہ ہوا۔ ان کی دادی نے انہیں بتایا کہ حکام ان سے خوش نہیں اور ملک واپس آنے سے خبردار کرتے ہوئے واپس نہ آنے کا کہا۔

کرسٹینا کے مطابق وہ سمجھ گئیں تھیں کہ ملک واپسی پر انہیں حکومت کی جانب سے ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور ممکن ہے کہ ان کی جان کو بھی خطرہ ہو۔

بقول ان کے انہوں نے فوری طور پر حاضر دماغی سے کام لیتے ہوئے اپنے فون پر گوگل ٹرانسلیشن کی مدد سے جاپانی زبان میں ترجمے کے ذریعے ایئرپورٹ پر تعینات پولیس سے مدد کی اپیل کی۔ پولیس نے کرسٹینا کو فوری طور پر اپنی حفاظت میں لے لیا۔

SEE ALSO:اولمپک گیمز میں احتجاج کی کہانی، اولمپکس کی تاریخ جتنی ہی پرانیمعاملے کی خبر پھیلنے پر یورپی ممالک کرسٹینا کی مدد کے لئے آگے بڑھے۔ جاپان میں پولینڈ کے سفارت خانے نے کرسٹینا کو انسانی حقوق کی بنیاد پر فوری ویزا فراہم کیا۔ کرسٹینا اپنے شوہر کے ہمراہ آسٹریا کے راستے پولینڈ کی جانب رواں ہیں۔

بیلاروس میں جاری شدید مظاہرے گزشتہ کئی ماہ سے خبروں کا حصہ بنے رہے ہیں۔ مظاہروں کا آغاز اس وقت ہوا جب صدر الیگزینڈر لوکاشینکو نے الیکشن میں جیت کے بعد چھٹی بار صدارت کا عہدہ سنبھالا۔

ایڈوب فلیش پلیئر حاصل کیجئےEmbedshareاولمپکس میں پاکستانی کھلاڑیوں کی کارکردگی اچھی کیوں نہیں ہوتی؟EmbedshareThe code has been copied to your clipboard.widthpxheightpxفیس بک پر شیئر کیجئیے ٹوئٹر پر شیئر کیجئیے The URL has been copied to your clipboardNo media source currently available

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More