عالیہ، کترینہ اور پریانکا ایک ساتھ فرحان اختر کی فلم میں نظر آئیں گی

وائس آف امریکہ اردو  |  Aug 10, 2021

ویب ڈیسک — 

کرونا وبا کے دوران جہاں بالی وڈ کی بے شمار فلمیں تاخیر کا شکار ہوئیں وہیں منگل کو ہدایت کار فرحان اختر نے ایک دہائی بعد ہدایت کاری کی دنیا میں واپس آتے ہوئے فلم 'جی لے ذرا' کا اعلان کیا ہے۔

اداکار و ہدایت کار فرحان اختر نے فلم 'دل چاہتا ہے' کے 20 برس مکمل ہونے کے موقع پر فلم 'جی لے ذرا' کا مختصر ٹیزر سماجی رابطوں کی سائٹ ٹوئٹر پر جاری کیا ہے۔

فرحان اختر نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ ان کی فلم میں اداکارہ پریانکا چوپڑا، کترینہ کیف اور عالیہ بھٹ ایک ساتھ اداکاری کے جوہر دکھائیں گی۔

فرحان اختر کے ٹوئٹ کے مطابق فلم کی عکس بندی کا آغاز 2022 میں ہو گا۔

فرحان اختر نے فلم 'جی لے ذرا' کے مختصر ٹیزر میں سن 2001 میں ریلیز ہونے والی فلم 'دل چاہتا ہے' اور 2011 کی فلم 'زندگی نہ ملے گی دوبارہ' کی جھلکیاں دکھائی ہیں۔

لیکن فلم 'جی لے ذرا' کی خاص بات یہ ہو گی کہ اس بار فلم میں تین لڑکوں کی دوستی کی کہانی کے بجائے تین لڑکیوں کی کہانی کو دکھایا جائے گا جو ایک روڈ ٹرپ پر نکلی ہوں گے۔

'جی لے زرا' کی کہانی زویا اختر، فرحان اختر اور ریما کگتی کی جانب سے لکھی گئی ہے جو 'ایکسل انٹرٹینمنٹ اور 'ٹائیگر بے بی' کی پیش کش ہے۔

فلم کی پروڈیوسر ریما کگتی، زویا اختر، رتیش سدھوانی اور فرحان اختر ہیں۔

اداکارہ عالیہ بھٹ، پریانکا چوپڑا اور اداکارہ کترینہ کیف کی جانب سے بھی فلم کا ٹیزر سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر شیئر کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ فلم 'دل چاہتا ہے' ’ایکسل انٹرٹینمنٹ‘ پروڈکشن کمپنی کی پہلی فلم تھی جسے 10 اگست 2001 کو ریلیز کیا گیا تھا۔

اس کمپنی کی بنیاد 1999 میں فرحان اختر اور رتیش سدھوانی نے رکھی تھی۔

شوبز کی ویب سائٹ 'ورائٹی' کی رپورٹ کے مطابق اداکار فرحان اختر نے 'دل چاہتا ہے' کے ذریعے اپنا ڈائریکٹوریل ڈیبیو کیا تھا اور اس فلم میں تین دوستوں کی کہانی کو دکھایا گیا تھا۔

’ایکسل انٹرٹینمنٹ‘ کی جانب سے بالی وڈ کی کامیاب ترین فلمیں پیش کی جا چکی ہیں جن میں ’راک آن‘، ’لکشیا‘، ’زندگی نا ملے گی دوبارہ‘ اور 'ڈون' جیسی فلمیں شامل ہیں۔

'ورائٹی' کے مطابق فرحان اختر کی ہدایت کاری میں بننے والی آخری فلم 'ڈون ٹو' 2011 میں ریلیز کی گئی تھی جس کے بعد اب وہ 'جی لے ذرا' کی ہدایت کاری کے فرائض انجام دیں گے۔

اس خبر میں شامل بعض معلومات امریکی میگزین ’ورائٹی‘ سے لی گئی ہیں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More