عالمی وبا کے خاتمے کے بعد کیا ہوگا؟ بل گیٹس کی خطرناک پیشگوئی

بول نیوز  |  Sep 14, 2021

دنیا کورونا وبا کی وجہ سے پریشان ہے، مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس نے کورونا وائرس کے خاتمے سے متعلق ایک اور پیش گوئی کر دی ہے۔

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق دنیا کے دس امیرترین انسانوں میں شمار ہونے والے امریکی کمپنی مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس نے کہا ہے کہ 2022 کے اختتام تک دنیا کورونا وائرس سے نجات پالے گی۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ سال کے آخر تک دنیا معمول پر آجائے گی کیوں کہ 2022 تک بیشتر ممالک کورونا ویکسین تیار کرلینگے اور تقریباً تمام ممالک میں کورونا کی ویکسین دستیاب ہوگی۔

مائیکروسافٹ کے بانی کا کہنا تھا کہ کورونا کیسز مکمل طور پر ختم نہیں ہوں گے لیکن بڑی حد تک کیسز میں کمی واقع ہوجائے گی کیوں کہ شہریوں کی ویکسی نیشن ہوجائے گی۔

بل گیٹس نے حکومتوں کو متنبہ کیا کہ مستقبل میں وباؤں سے نمٹنے کےلیے تیاری رکھیں۔

بل گیٹس کی دنیا کو اگلی وبا کے لیے تیار رہنے کی ہدایت

 دنیا کے امیر ترین افراد میں شامل بل گیٹس نے دنیا کو اگلی وبا کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کر دی ہے۔

بین لاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس نے خبردار کیا ہے کہ دنیا اگلی وبا کے لیے تیار رہے اور یہ تیاری جنگی بنیادوں  پر ہونی چاہیے۔

ذرائع کے مطابق رواں سال بل گیٹس اور ان کی سابقہ اہلیہ کی جانب سے جاری کردہ پیغام میں کہا گیا کہ آئندہ وبا کی صورت میں ہماری تیاری نہ ہوئی تو ہم اس کے  نتائج کے متحمل نہیں ہوسکیں گے۔

انہوں نے کہاکہ جب تک ہم اس حوالے سے اقدامات نہیں کرتے، ایک اور وبا کا خطرہ ہمارے سر پر منڈلاتا رہے گا۔

مائیکرو سافٹ کے بانی نے کہا کہ کورونا وائرس کے باعث ہونے والے نقصانات سے آئندہ آنے والی وبا میں محفوظ رہنے کے لیے ہمیں جنگی بنیادوں پر تیاری کرنا ہوگی۔

بل گیٹس نے کہاکہ مستقبل میں وباؤں کو روکنے کے لیے اربوں ڈالر سالانہ کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، کورونا وائرس کی وبا کی ہمیں 28 کھرب ڈالر قیمت ادا کرنا پڑی ہے۔

 اپنے پیغام میں بل گیٹس نے  دنیا پر زور دیا ہے کہ کھربوں کے نقصان سےبچنے کے لیے پہلے ہی سے اربوں روپے کی سرمایہ کاری کرنا بہتر ہے۔

اس کے لیے بیماریوں کی تشخیص اور ویکسین کی تیاری کی ٹٰیکنالوجی میں ترقی کے ساتھ  عالمی طور پر وبا کے خطرے سے خبردار کرنے کے لیے باقاعدہ نظام کا قیام بھی ضروری ہے، یہ کام کئی وباؤں کے باوجود ابھی تک نہیں کیا جاسکا ہے۔

AdPushup 300X250
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More