گھر اس طرف ہےِ: کتے کی راستہ پہچاننے کی قوت

ڈی ڈبلیو اردو  |  Sep 18, 2021

فرانسیسی الپس کے دشوار گزار پہاڑی راستوں سے سووی مقام تک کا فاصلہ قریب ساڑھے تین سو کلو میٹر کا ہے۔ کوئی بھی شخص جی پی ایس کے بغیر اس راستے سے نہیں گزر سکتا لیکن شکاری نسل کا ٹیریئر کتا پابلو اکیلے یہ فاصلہ طے کر سووی میں واقع گھر پہنچ جاتا ہے۔

پابلو کا تعلق جس خاندان سے ہے، وہ الپس میں شکار کھیلنے گئے ہوئے تھے اور وہاں کسی وقت پابلو لاپتہ ہو گیا مگر چند دنوں بعد وہ خود سے یہ ساری مسافت طے کرتا ہوا اپنے مالک کے گھر پہنچ گیا۔

زندگی خوبصورت ہے

ایک قابل اعتماد دوست

کوئی بھی انسان کسی کتے کی اس خوبی سے حسد کر سکتا ہے کہ راستہ پہچاننے کی اس کی حس اپنے مالک سے بہتر ہوتی ہے۔ صدیوں سے انسان کتوں کو اس مقصد کے لیے استعمال کرتا چلا آ رہا ہے کیونکہ اسے ایک قابل اعتماد دوست کی حیثیت بھی حاصل ہے۔

پہلی عالمی جنگ کے دوران یورپی افواج کتوں کے ذریعے جہاں ایک طرف پیغام رسانی کرتی تھی وہاں انہی سے جنگی حکمت عملی کی ہدایات بھی کوڈ ورڈز میں دوسری جگہ پہنچائی جاتی تھیں۔

چیک یونیورسٹی برائے لائف سائنسز کے ماہر حیوانات ہائنک بورڈا کا کہنا ہے کہ بظاہر کتوں کی راستوں کی پہچان تو روایتوں سے انسانی معاشرت میں منتقل ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس مناسبت سے کہا جا سکتا ہے کہ مختلف مقامات، جگہوں اور انسانوں کی بُو ان کے ذہن میں محفوظ رہتی ہے اور یہی ان کی پہچان کا سب سے بڑا ذریعہ ہو سکتا ہے۔

آپ دریا کیسے صاف کر سکتے ہیں؟

ایسا بھی خیال کیا جاتا ہے کہ کتے زمین کے مقناطیسی دائرے کا استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن اس بابت سائنسی تحقیق جاری ہے۔

مخفی جی پی ایس سسٹم

لائف سائنسز کے ماہر ہائنک بورڈا کا کہنا ہے کتے شمال جنوب کی سمت میں اکثر و بیشتر پیشاب یا اپنا فضلہ خارج کرتے ہیں۔ اس مناسبت سے بورڈا کی ریسرچ ٹیم نے تحقیق بھی کی ہے۔ اس کے مطابق کتا زمین کی مقناطیسی فیلڈ کی پہچان رکھتا ہے۔ مقناطیسی فیلڈ کو پہچاننے کا عمل میگنیٹوریسیپشن (magnetoreception) کہلاتا ہے۔ یہ ایک طرح کا داخلی کمپس یا قطب نما ہوتا ہے۔

سائنسدانوں نے سالمن کے ناک میں ایک چھوٹا سا ایسا مادہ دریافت کیا ہے جو اس کا 'جی پی ایس‘ ہے

بورڈا کی ٹیم نے یہ دریافت کیا کہ کتے راستہ تلاش کرنے کے لیے اپنا داخلی کمپاس استعمال کرنے کی صلاحیت کو استعمال کرتے ہیں۔ اس مناسبت سے ان کی ٹیم نے کئی ثبوت بھی اکھٹے کیے۔ اس سے معلوم ہوا کہ وہ اپنی منزل کے لیے پرانے راستے کی جگہ ایک نیا راستہ بھی تلاش کر سکتے ہیں۔

بھٹ شاہ کے کتے: پطرس بخاری کے سوال کا جواب

سمندر میں راستہ یاد رکھنے والی مچھلی

سالمن کو سمندروں میں وہی حیثیت حاصل ہے جو زمین پر کسی کتے کو جہاں تک راستوں کی پہچان کا معاملہ ہے۔ سمندر سے کسی دریا میں انڈے دینے کے بعد یہ مچھلیاں واپس اپنی سمندری مسکن میں پہنچ جاتی ہیں۔

شمالی بحر اوقیانس کی سالمن مچھلی بھی ایسی خصوصیت کی حامل ہے۔ سائنسدانوں نے سالمن کے ناک میں ایک چھوٹا سا ایسا مادہ دریافت کیا ہے اور اس کے حوالے سے ان کا خیال ہے کہ یہ اس مچھلی کا 'جی پی ایس‘ ہے۔

پرندے بھی کتوں اور مچھلیوں کی طرح اپنے ٹھکانے کے راستے کی پہچان رکھتے ہیں

سائنسی ماہرین کا خیال ہے کہ سالمن مچھلی میں راستے پہچاننے کی حس کتے سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ سالمن صرف بُو پر انحصار نہیں کرتی بلکہ یہ اپنے راستے میں آنے والی ہر شے کو بھی یاد رکھتی ہے۔

سائنسدانوں کا خیال ہے کہ کتے شاید بہت طویل راستوں کو یاد نہیں رکھ پاتے لیکن ایک سالمن ایسی صلاحیت رکھتی ہے۔ کتے خاص طور پر انسانوں کی بُو کو اپنے ذہن میں محفوظ کرتے ہیں اور یہی انسانوں اور کتوں میں ایک تعلق قائم کرنے میں مددگار ہوتا ہے۔

ماری زینا (ع ح/ ب ج)

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More