نیوزی لینڈ کا دورہ پاکستان منسوخ: چیف ایگزیکٹو نیوزی لینڈ کرکٹ کے مطابق ٹیم کو لاحق خطرے کی اطلاع ’مخصوص اور مصدقہ‘ تھی

بی بی سی اردو  |  Sep 19, 2021

ڈیوڈ وائٹ
Getty Images

نیوزی لینڈ کرکٹ کے چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ وائٹ نے کہا ہے کہ جمعے کے روز نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کو حکومت کی جانب سے 'مخصوص اور مصدقہ' خطرے کے بارے میں آگاہ کیا گیا تھا جس کی تصدیق نیوزی لینڈ کرکٹ کے سکیورٹی کنسلٹنٹس کے علاوہ آزادانہ طور پر بھی کی گئی تھی۔

ڈیوڈ وائٹ نے بتایا کہ 'اس خطرے کی عمومی تفصیلات تو پی سی بی کو بتا دی گئی تھیں لیکن اس کی مخصوص تفصیلات نہ بتائی جا سکتی تھیں، نہ بتائی جائیں گی۔۔۔ نہ ہی نجی حیثیت میں اور نہ ہی عوامی طور پر۔'

نیوزی لینڈ کرکٹ کی جانب سے اتوار کے روز ایک اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں بتایا گیا ہے کہ نیوزی لینڈ کے 34 کھلاڑی اور سٹاف اراکین دبئی پہنچ چکے ہیں جہاں وہ ایک ہوٹل میں 24 گھنٹے کے لیے قرنطینہ کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ جمعے کے روز نیوزی لینڈ کی ٹیم نے پاکستان میں سکیورٹی خدشات کو بنیاد بنا کر دورۂ پاکستان ختم کرنے کے اعلان کیا تھا۔

اس کے بعد سے پاکستان بھر میں پاکستان کرکٹ کے مداحوں کی جانب سے اس حوالے سے سخت ردِ عمل سامنے آیا تھا جبکہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے نیوزی لینڈ کے اس فیصلے کو 'یکطرفہ' قرار دیا تھا۔

اس بارے میں بات کرتے ہوئے چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ وائٹ کا مزید کہنا تھا کہ 'ہمیں معلوم ہے کہ یہ پی سی بی کے لیے انتہائی مشکل وقت ہے اور ہم اس موقع پر چیف ایگزیکٹو وسیم خان اور ان کی ٹیم کے پیشہ وارانہ رویے اور اچھے سلوک کے لیے شکرگزار ہیں۔

میچ سکیورٹی
EPA
نیوزی لینڈ نے سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر عین وقت پر پاکستان کے خلاف میچ ملتوی کر دیا

انھوں نے کہا کہ نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم پاکستان کے خلاف سیریز کھیلنے کے لیے پرعظم تھی لیکن جمعے کو نیوزی لینڈ کی حکومت سے ملنے والی رہنمائی کے بعد ان کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا اس لیے اس سیریز کو منسوخ کرنا پڑا۔

راولپنڈی میں پاکستان اور نیوزی لینڈ کی ٹیموں کے درمیان کھیلے جانے والا پہلا ایک روزہ میچ آغاز سے کچھ وقت قبل منسوخ کر دیا گیا تھا اور نیوزی لینڈ کی ٹیم نے سکیورٹی خدشات کی وجہ سے پاکستان کا دورہ جاری رکھنے سے بھی انکار کر دیا تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'نیوزی لینڈ کرکٹ پاکستان کے دورے سے متعلق اپنے ابتدائی فیصلے سے متعلق پراعتماد تھی اور اس کے پیچھے ملک کی سکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ اور خطرات سے نمٹنے کے لیے کیے گئے انتظامات کا جائزہ شامل تھا۔

'جمعے کو سب کچھ بدل گیا، اس حوالے سے اطلاعات بدل گئیں، تھریٹ لیول بدل گیا، جس کی وجہ سے ہمیں جو واحد ذمہ دارانہ فیصلہ ممکن محسوس ہوا، ہم نے وہی کیا۔'

یہ بھی پڑھیے

نیوزی لینڈ کے فیصلے سے پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ پر کیا اثرات ہو سکتے ہیں؟

’نیوزی لینڈ کس دنیا میں رہ رہا ہے، اب بات آئی سی سی میں ہو گی‘

سنیوزی لینڈ کا پاکستان میں کھیلنے سے انکار، انگلش بورڈ 48 گھنٹے میں فیصلہ کرے گا

نیوزی لینڈ نے بدقسمتی کے لیے بھی کوئی جواز نہیں چھوڑا

انھوں نے کہا کہ ’میں یہ بتا سکتوں ہوں کہ ہمیں ٹیم کے حوالے سے مخصوص اور مصدقہ خطرے کے بارے میں آگاہ کیا گیا تھا۔'

'ہماری نیوزی لینڈ کے حکومتی عہدیداروں سے متعدد مرتبہ بات چیت ہوئی تھی جس کے بعد ہم نے حتمی فیصلہ کیا اور ہمارے پی سی بی کو اس حوالے سے بتانے کے بعد ہی دونوں ملکوں کے وزرا اعظموں کا آپس میں ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔'

'بدقسمتی سے ہمیں جو اطلاعات موصول ہوئیں، اس کے بعد ملک میں ٹھہرنے کا کوئی جواز ہی نہیں تھا۔‘

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More