کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال: بھارتی قابض افواج کا کشمیریوں کی آواز دبانے کا گھنائونا حربہ

اے پی پی  |  Sep 20, 2021

اسلام آباد۔20ستمبر (اے پی پی):بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی قابض فورسز کشمیریوں کی آزادی کےلئےآواز کو دبانے کیلئے کیمیائی ہتھیا روں کے ممکنہ استعمال پر اتر آئی ہے ،کشمیریوں کی تحریک حریت کو کچلنے میں ناکامی پر بھارتی قابض فوجیوں کی طرف سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری نام نہاد کارروائیوں کے دوران ممنوعہ ہتھیاروں کے استعمال سے کشمیری نوجوانوں کی جلی ہوئی لاشیں ملی ہیں جو کیمیائی ہتھیاروں کے ممکنہ استعمال کاثبوت ہے ،پچھلے پانچ سال کے دوران بھارتی قابض فورسز نے37 کشمیری نوجوانوں کوزندہ جلایا ہے جن میں سے زیادہ ترکوممکنہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے جلایا گیا۔ ۔

کشمیریوں کی نعشوں کو اس قدر جلایا گیا کہ وہ شناخت کا قابل نہیں رہیں۔ دسمبر 2016ء میں مقبوضہ کشمیر کے علاقہ اننت ناگ میں بھارتی فوجیوں کی جانب سے کیمیائی ہتھیار وں کے ممکنہ استعمال کی رپورٹ پہلی بار منظر عام پر آئی جس کے دوران 22 سالہ نوجوان ماجد زرگر شہید ہوا ۔ 4 جولائی 2017ء کو پلوامہ کے علاقہ بھامانو میں بھارتی قابض فورسز نے جہانگیری خاندے، کفایت احمد اور فیصل احمد کوممکنہ کیمیائی ہتھیار استعمال کر کے شہید کیا۔

 

نومبر 2018ء میں بھارتی فورسز نے مقبوضہ کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں تلاشی کے آپریشن کے دوران مختیار احمد خان اور محمد امین میر کو ممکنہ کیمیائی ہتھیاروں کے ذریعہ شہید کیا۔ 26 جون 2020ء میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں قابض فوجیوں نے ضلع پلوامہ کے علاقہ ترال میں ایک اور کارروائی میں 18 گھروں کو تباہ کیا جبکہ تین نوجوانوں کو اسی طرح نامعلوم مشتبہ کیمیائی ہتھیار استعمال کر کے جلا دیا اور ان کے جسموں کو اس قدر جلایا گیا کہ وہ راکھ کا ڈھیر بن گئے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More